spot_img

تازہ ترین

سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے حلف اٹھالیا

کراچی : سندھ اسمبلی کے 148 نو منتخب ارکان...

مسلم لیگ ن 108 ارکان کے ساتھ قومی اسمبلی کی بڑی جماعت بن گئی

اسلام آباد : مسلم لیگ ن108 ارکان کے ساتھ...

سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان آج حلف اٹھائیں گے

کراچی : سندھ اسمبلی کے نو منتخب ارکان آج...

بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان کر دیا

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے...

پنجاب اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے حلف اٹھالیا

لاہور : پنجاب اسمبلی کے نومنتخب اراکین نے حلف...

چکبست کا تذکرہ جن کے اشعار کو ضربُ‌ المثل کا درجہ حاصل ہے

چکسبت کے کئی اشعار کو اردو زبان میں ضربُ المثل کا درجہ حاصل ہے اور اُن کے فن اور شاعرانہ اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ 1926ء میں آج ہی کے دن پنڈت برج نرائن چکبست وفات پاگئے تھے۔ چکبست شاعری میں غالب سے کافی متاثر تھے اور اپنے ہم عصروں میں انھوں نے علّامہ اقبال کا اثر قبول کیا تھا۔ ان کی شاعری کو وطن پرستی، مذہبی، اور ان کے سیاسی رجحان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔

چکبست کی غزل کا یہ شعر بہت مقبول ہوا تھا

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

چکبست لکھنوی کا تعلق فیض آباد سے تھا جہاں انھوں نے 1882ء میں آنکھ کھولی۔ اوائلِ عمر میں لکھنؤ آگئے جہاں قانون کا امتحان پاس کرنے کے بعد انھوں نے وکالت کا آغاز کیا۔ چکبست نے ستارۂ صبح کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا تھا۔

وہ شاعر ہی نہیں‌ عمدہ نثر نگار بھی تھے۔ نثر میں مولانا شرر سے ان کا معرکہ مشہور ہے۔ چکبست نے اپنے زمانے کے کسی استاد سے اصلاح نہیں‌ لی اور کثرتِ مطالعہ کے ساتھ مشق جاری رکھی اور اردو ادب میں‌ نام بنایا۔ انھوں نے غزل گوئی کے علاوہ نظم میں‌ بھی اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کیا۔ ان کا مجموعۂ کلام صبح وطن کے نام سے شائع ہوا۔

مشہور ہے کہ چکبست نے پہلا شعر نو، دس برس کی عمر میں کہا تھا۔ وہ ترقی پسند اور آزاد خیال شخص تھے جس نے انگریزی ادب اور فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا۔ اور اس مطالعہ کے ان کے ذہن اور فکر پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان کا حافظہ غیر معمولی تھا۔ انھوں نے صرف 35 سال کی عمر میں اردو شعراء کے درمیان صف اوّل میں جگہ حاصل کرلی تھی۔ چکبست صرف 44 سال زندہ رہ سکے۔ وہ ایک مقدمے کے سلسلے میں لکھنؤ سے بریلی گئے تھے اور واپسی پر ریل کے سفر میں ہی ان پر فالج کا حملہ ہوا۔

چکبست کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اصلاحِ معاشرہ اور وطن کی فکر میں گھلے جاتے تھے۔ چکبست کا مشاہدہ بے پناہ تھا، انھوں نے غلامی کے دور دیکھے اور ظلم و ستم جو انگریزوں نے روا رکھا، ان پر چکبست کی دقیق نظر تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں قومیت و وطنیت کا عنصر غالب ہے۔

یہاں‌ ہم اردو کے اس مشہور شاعر کی ایک غزل آپ کی نذر کررہے ہیں۔

نہ کوئی دوست، دشمن ہو شریکِ درد و غم میرا
سلامت میری گردن پر رہے، بارِ الم میرا

لکھا یہ داورِ محشر نے میری فردِ عصیاں پر
یہ وہ بندہ ہے جس پر ناز کرتا ہے کرم میرا

کہا غنچہ نے ہنس کر واہ کیا نیرنگِ عالم ہے
وجودِ گل جسے سمجھے ہیں سب ہے وہ عدم میرا

دلِ احباب میں گھر ہے، شگفتہ رہتی ہے خاطر
یہی جنّت ہے میری اور یہی باغِ ارم میرا

کھڑی تھیں راستہ روکے ہوئے لاکھوں تمنائیں
شہیدِ یاس ہوں، نکلا ہے کس مشکل سے دم میرا

خدا نے علم بخشا ہے، ادب احباب کرتے ہیں
یہی دولت ہے میری اور یہی جاہ و حشم میرا

Comments

- Advertisement -