The news is by your side.

Advertisement

کورونا لاک ڈاؤن ، برطانوی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

کورونا سےپیدا بحران جنگ عظیم کےمعاشی نقصان سے بڑاہو سکتا ہے۔

لندن: برطانوی وزیرخزانہ رشی سناک کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث برطانیہ 300 سال میں سب سے بڑے معاشی بحران سے دو چار ہے جبکہ برطانوی بجٹ آفس نے جی ڈی پی میں تاریخ کی بدترین کمی کی پیش گوئی کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیرخزانہ رشی سناک نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ 300 سال میں سب سے بڑے معاشی بحران سے دو چار ہے، جون تک ملک کی معیشت 35 فیصد نیچے جا سکتی ہے، ہر کاروبار کو بچانا ہمارے لیےممکن نہیں ہوگا۔

برطانوی بجٹ آفس نےجی ڈی پی میں تاریخ کی بدترین کمی کی پیش گوئی کر دی اور کہا کورونا سےپیدا بحران جنگ عظیم کےمعاشی نقصان سے بڑاہو سکتا ہے۔

بجٹ آفس کا کہنا تھا کہ جون تک بیروزگار افراد کی تعداد 34لاکھ ہو سکتی ہے، قومی قرضوں میں 100فیصد اضافے کا خدشہ ہے۔

یاد رہے آئی ایم ایف نے برطانوی معیشت میں رواں سال 6.5 فی صد خسارے کی پیش گوئی کر دی ہے، مالیاتی ادارے نے کہا ہے کہ 1921 کے بعد برطانوی معیشت کے لیے یہ سال سب سے بد ترین ہوگا، ملک میں کساد بازاری میں بھی اضافہ ہوگا۔

دریں اثنا، آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کی ایک سنگین تصویر پیش کی، کرونا وائرس کی عالم گیر وبا سے پیدا ہونے والی ایک ایسی صورت حال جس کے برے اثرات ایک عشرہ قبل آنے والے عظیم معاشی بحران سے بھی زیادہ گہرے ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے دنیا کے تمام ممالک کے لیے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ رواں سال عالمی معیشت میں 3 فی صد خسارے کا خدشہ ہے، یورپی ممالک میں یہ خسارہ برطانیہ کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہوگا، یورپی ممالک میں اٹلی اور اسپین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں