برطانیہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے 10 فیصد ٹیرف کے بعد بھی پرسکون رہتے ہوئے تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی بزنس سیکریٹری نے موجودہ صورتحال پر سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کے برطانیہ پر 10 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد وہ اب بھی امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔
بزنس سیکریٹری جوناتھن رینالڈس نے ٹیرف کے اعلان کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ امریکا ہمارا قریبی اتحادی ہے، لہٰذا ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہم اس وقت پُرسکون رہیں اور تجارتی معاہد کریں جو ٹیرف کے اثرات کو کم کر دے گا۔
جوناتھن رینالڈس نے کہا کہ ہمارے پاس بہت سے ذرائع موجود ہیں اور ہم کام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے، ہم ان اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیں گے جو برطانیہ کے برنس پر اثر اندز ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ برطانیہ ان ممالک میں شامل ہو گا جنھیں امریکا کی درآمدات پر سب سے کم ٹیرف کی شرح کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ درجنوں دیگر ممالک کو زیادہ ڈیوٹی کا سامنا کرنا ہوگا۔
دریں اثنا صدر فرانسیسی صدر میکرون کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ٹیرف ظالمانہ اور بے بنیاد ہیں، ٹرمپ کے فیصلے خود امریکی معیشت کے لیے قابل برداشت نہیں، ٹرمپ کے محصولات کے جواب میں یورپ کو متحد ہونا پڑے گا۔
اس کے علاوہ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سے جو کاریں درآمد ہونگی ان کاروں پر اب 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات غیرضروری اور بلاجواز ہیں۔