The news is by your side.

Advertisement

برطانوی فضائی کمپنیاں سفری پابندیوں کے خلاف عدالت پہنچ گئیں

لندن : کرونا کے حوالے سے خطرناک ممالک کی درجہ بندی سے متعلق برطانوی فضائی کمپنیوں نے حکومت کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مانچسٹر ایئرپورٹ گروپ اور رائن ایئر نے حکومت ٹریول لسٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹریفک لائٹ سسٹم کو عدالت میں چلینج کرنے کا اعلان کیا تھا۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ’ٹریول ٹریفک لائٹس سسٹم کی شفافیت پر تحفظات ہیں، حکومتی فیصلے کی وجہ سے فضائی انڈسٹری کو بڑا معاشی دھچکا لگا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے وزیر گرانٹ شیپس کے خلاف قائم کیے گئے مقدمے کی پہلی سماعت دارالحکومت لندن کے ہائی کورٹ میں ہوئی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں ’مانچسٹر ایئرپورٹس گروپ‘ پیش پیش ہے اور آر وائے اے، ایزی جیٹ، برٹش ایئر ویز کی مالک آئی اے جی اور ٹی یو آئی یو جیسی کمپنیاں اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔

کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو زیادہ لوگوں کو سفر کی اجازت دینی چاہیے۔

کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ برطانوی صارفین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فیصلے کیسے کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ اپنے سفرکی منصوبہ بندی کر سکیں، اسی لیے ہم حکومت سے وہ ڈیٹا اور دیگر معلومات مانگ رہے ہیں جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ سازی ہو رہی ہے۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے فیصلے واضح نہیں ہورہے کہ وہ کس بنیاد پر مختلف ممالک کی درجہ بندی کررہی ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی گرین فہرست صرف چھوٹے چھوٹے جزائر شامل ہیں جبکہ سپین، یونان، فرانس اور امریکا جیسے بڑے ممالک کو عنبر (گہرے زرد رنگ والی) فہرست میں رکھا گیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ 19 جولائی کے بعد بھی سفر پر پابندی رہے گی۔ اس کے بعد بھی ویکسین کی دو خوراکیں نہ لینے والے برطانوی اور برطانیہ میں رہائش پذیر غیرملکیوں کو قرنطینہ ہونا پڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں