The news is by your side.

Advertisement

جہازرانی،اشیاءکی آزادانہ نقل وحمل کا تحفظ کرتے رہیں گے،برطانوی وزیردفاع

لندن:برطانیہ نے اہم آبی گذرگاہ آبنائے ہرمز میں اپنے مال بردار جہازوں کے تحفظ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ اس تشویش کے اظہار میں حق بجانب ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر دفاع پینی مورڈونٹ نے بحری افواج کی تعیناتی کے بارے میں ایک دفاعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہ ہمیں آبنائے ہرمز میں اپنی (تجارتی) اشیاءکے تحفظ پر درست طور پر تشویش لاحق ہے۔

پینی مورڈونٹ سے جب خلیج میں تیسرے جنگی بحری جہاز کو بھیجنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ برطانیہ کو ہمیشہ سے خلیج اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں اپنے مفادات کے بارے میں تشویش لاحق رہی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ اہم بات یہ ہے کہ ہم ایران کو ایک بہت واضح پیغام دیں اور وہ یہ کہ وہ موجودہ صورت حال سے پیچھے قدم ہٹائے اور کشیدگی میں کمی کرے لیکن ہم ہمیشہ سے علاقے میں جہازرانی اور اشیاءکی آزادانہ نقل وحمل کا تحفظ کرتے چلے آرہے ہیں اور آیندہ بھی اس کا تحفظ کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں برطانوی رائل میرینز نے ایرانی تیل بردار جہاز کو ممکنہ طور پر یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کو توڑنے کی پاداش میں 4 جولائی کو تحویل میں لے لیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کے بعد برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ ’ایران کشیدگی بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتا جو حوصلہ افزا بات ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہم نے ایران کو ایک مرتبہ پھر یقین دلایا کہ تیل کس جگہ پہنچایا جائے گا یہ ہمارے لیے باعث تشویش ہے، اگر ہمیں یقین دلایا جائے کہ تیل شام نہیں پہنچایا جائے گا تو برطانیہ یقیناً ایرانی جہاز کو چھوڑنے میں تعاون کرے گا۔

جواب میں 11 جولائی کو ایرانی پاسداران انقلاب کی پانچ کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں ایک برطانوی تیل بردار جہاز کے قریب آ کر مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ٹھکانے کے قریب ایرانی پانی میں رک جائے تاہم برطانوی جنگی جہاز کی وارننگ کے بعد مذکورہ ایرانی کشتیاں واپس چلی گئیں۔

برطانوی رائل نیوی کی فریگریٹ کے ایک ذمے دار کے مطابق فریگریٹ نے اپنی توپوں کا رخ ایرانی کشتیوں کی جانب کر لیا تھااور انہیں وائر لیس کے ذریعے وارننگ دی گئی کہ وہ اس مقام سے منتشر ہو جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں