The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے باعث برطانوی معیشت شدید مشکلات سے دوچار

لندن : مشکلات سے دوچار برطانوی معیشت اس قدر مشکلات کا شکار ہوگئی کہ حکومت دو ماہ تک کرونا وائرس سے لڑنے والے طبی عملے کے ٹیسٹ تک نہیں کرسکتی اور نہ ہی انہیں حفاظتی سامان مہیا کرسکتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نئے مہلک ترین وائرس کوویڈ 19 نے دنیا کی چھٹی بڑی معیشت برطانیہ کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے، ساڑھے چھ کروڑ آبادی والے ملک میں ابھی تک صرف 173،784 افراد کے ہی ٹیسٹ کیے جاسکے ہیں جبکہ اب تک 38 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص بھی ہوچکی ہے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کےلیے برطانوی حکومت کے اقدامات کا یہ حال ہے کہ دو ماہ تک حکومت وائرس سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے طبی عملے کو ٹیسٹ نہیں کرسکی اور نہ ہی مناسب حفاظتی سامان مہیا کیا جاسکتا ہے۔

جس کی وجہ سے طبی عملے کے ٹیسٹ کے آغاز سے ہی لندن کے ایک ہی ہسپتال کے 73 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 318 افراد آئیسولیشن میں چلے گئے۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور پرنس چارلس سمیت کئی بڑی شخصیات کرونا کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ عام شہریوں کے ٹیسٹ اُس وقت تک ممکن نہیں ہیں جب تک اُنہیں وائرس سے شدید تکلیف کا سامناں ہو۔

جس سے مریضوں کی تعداد اب ہزاروں کی تعداد میں سامنے آنا شروع ہو چکی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروس مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں اس وقت قومی ایمرجنسی نافذ ہے اور سکولز، مساجد، چرچ اور شاپنگ سنٹرز بند کر دیئے گئے ہیں اور عام شہریوں کے بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد ہے جبکہ نماز جنازہ میں صرف دس افراد کو شرکت کی اجازت ہے۔

۔حکومت کی جانب سے ملازمین اور کاروباریوں کے لیے 330 ارب پاؤنڈز کا پیکج بھی دیا گیا ہے تاکہ وہ اس مشکل وقت میں اپنا پیٹ پال سکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں