The news is by your side.

Advertisement

پاکستان درخواست کرے تو نواز شریف کو واپس بھیجا جا سکتا ہے: برطانوی دفتر خارجہ

لندن: برطانوی وزیر خارجہ نے ایک شہری کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان درخواست کرے تو نواز شریف کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی شہری خالد لودھی نے برطانوی دفتر خارجہ، ممبران پارلیمنٹ، وزیر اعظم بورس جانسن اور وزیر داخلہ کو خط لکھا تھا، جس میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نواز شریف پاکستان میں سزا یافتہ ہیں، انھیں واپس بھیجا جائے۔

برطانوی دفتر خارجہ نے شہری خالد لودھی کے خط کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اگر درخواست کرے تو نواز شریف کو واپس بھیجنے کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ برطانوی ممبر پارلیمنٹ اسٹیفن ٹمز نے بھی وزیر اعظم کو خط لکھ کر اس حوالے سے استفسار کیا تھا۔

نواز شریف کی واپسی، برطانوی رکن پارلیمنٹ کا بورس جانسن کو خط

برطانوی دفتر خارجہ نے خالد لودھی کے خط کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے، اگر پاکستان درخواست کرے تو برطانوی قوانین کے مطابق واپسی کا عمل شروع کر سکتے ہیں، بغیر معاہدے کے ماضی میں بھی حوالگیاں کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ نومبر میں وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے اے آر وائی نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے نواز شریف کی واپسی کے لیے برطانیہ سے آفیشل ریکوزیشن کی ہے، اور ان کی واپسی کا سو فی صد چانس ہے، برطانیہ سے نواز شریف کی ایکسٹرڈیشن مانگی گئی ہے۔

23 اکتوبر کو وزیر اعظم عمران خان نے اے آر وائی نیوز کو خصوصی انٹرویو میں نواز شریف کی واپسی کے لیے ہر حد تک جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا ضرورت پڑی تو وہ خود برطانیہ جائیں گے اور برطانوی وزیر اعظم سے بھی بات کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں