The news is by your side.

Advertisement

انگریزوں کو “اخلاقِ ہندی” کیوں پڑھائی گئی؟

ہر زندہ اور باشعور معاشرہ نسلِ نو کی تربیت اور کردار سازی کو اہمیت دیتا ہے اور ایسا ادب تخلیق کرتا ہے جو بچّوں اور نوجوانوں کی دل چسپی اور توجہ حاصل کرنے کے ساتھ سبق آموز واقعات اور باہمّت لوگوں کی داستانوں سے ان کی تربیت اور کردار سازی کرتا ہے۔

نسلِ نو کی تربیت اور انھیں‌ ہمّت و حوصلے سے زندگی کی کٹھنائیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کی ضرورت شاید آج بہت زیادہ بڑھ گئی ہے جس میں والدین اور اساتذہ کا کردار اور گھر کا ماحول کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ضمن میں بچّوں کا ادب تخلیق کرنا اور انھیں‌ مطالعے کا عادی بنانا بھی ضروری ہے جس سے نہ صرف بچّے زبان و بیان سیکھیں گے بلکہ ان میں معاشرت کا شعور اجاگر ہو گا اور اچھّی عادات اور طور طریقے بھی سیکھنے کو ملیں گے۔

اس تمہید کے ساتھ ہم آپ کو علم و دانش، حکمت و دانائی کے قصائص پر مبنی اردو کی پہلی کتاب کے بارے میں‌ بتاتے ہیں جو 1803ء میں شایع ہوئی۔ اس کا نام تھا “اخلاقِ ہندی۔”

اس کتاب کی اشاعت کا مقصد انگریزوں کو مقامی زبان سکھانا اور ہندوستان کی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دینا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں انگریز قدم رکھ چکے تھے۔ ہندوستانی علما، ادیب و شاعر اور دیگر قابل ہستیاں انگریزوں کی آمد کے بعد یہاں کی معاشرت میں تبدیلیاں اور اپنی زبان، طور طریقوں پر اس کے اثرات دیکھ رہے تھے جب کہ انگریز سمجھتا تھاکہ مقامی زبانیں سیکھنے اور یہاں کی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے کے بعد وہ زیادہ بہتر طریقے سے یہاں راج کرسکتا ہے۔

چناں چہ حکومتی اور انتظامی امور چلانے کے لیے انگلستان سے آنے والے افسروں نے مقامی زبان سیکھنا شروع کی اور اس کے ساتھ یہاں کے کلچر اور رسم و رواج کو سمجھنے کے لیے انگریزوں نے کلکتے میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا اور قابل ہندوستانیوں کو استاد مقرر کیا۔ ان اساتذہ کو منشی کہا جاتا تھا۔ میر بہادر علی حسینی بھی انہی میں سے ایک تھے۔

وہ میر منشی کہلائے اور انھوں نے اپنے انگریز شاگردوں کے لیے اردو کی اوّلین کتاب لکھی جس کا نام اخلاقِ ہندی تھا۔ یہ دراصل فارسی کتاب “مفرح القلوب” کا ترجمہ تھا۔ اس کتاب میں مختلف قصائص اور واقعات مقامی زبان اور بولیوں میں بیان کیے گئے تھے۔

اس میں طالبِ علموں کی دل چسپی اور توجہ برقرار رکھنے کی غرض سے عجیب و غریب داستانیں بیان کی گئی تھیں۔ اس میں کوّے اور چڑی مار کی کہانی، بوڑھے شیر اور مسافر کی حکایت اور کہیں کوّے ہرن اور گیدڑ کا قصّہ پڑھنے کو ملتا ہے۔

قدیم ہندوستان اور ایران میں ایسی بے شمار حکایتیں اور داستانیں مشہور ہیں جو سبق آموز اور تمدن و معاشرت سکھانے کا ذریعہ تھیں۔ یہ سب طفلانِ چمن اور نونہالانِ وطن کی تعلیم و تربیت میں کسی نہ کسی صورت آج بھی اہمیت رکھتی ہیں اور ان میں سے منتخب کہانیاں ابتدائی درسی کتابوں میں بھی شامل ہیں۔

منشی صاحب کی کتاب “اخلاقِ ہندی” کا ایک نسخہ 1868ء میں لندن میں بھی طباعت کے زیور سے آراستہ ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے مشہور مطبع خانے ڈبلیو ایچ ایلن اینڈ کمپنی میں چھپی تھی۔ اس کتاب کے مرتب سید عبداللہ تھے جو اس زمانے میں‌ لندن میں مشرقی زبانوں کے استاد تھے۔

(ہندوستان میں بچّوں کے ادب اور تاریخ سے متعلق مضمون سے خوشہ چینی)

Comments

یہ بھی پڑھیں