The news is by your side.

Advertisement

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ کے مزید مندرجات سامنے آ گئے

براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ کے مزید مندرجات سامنے آ گئے۔ 15لاکھ ڈالر غلط ادائیگی کے ‏ذمےدار سابق ڈپٹی ہائی کمشنر عبدالباسط کو قرار دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق معاہدہ منسوخی کی ذمےداری سابق ڈپٹی ہائی کمشنرعبدالباسط پربھی عائد کی ‏گئی ہے۔ کمیشن رپورٹ میں ادائیگیوں میں تاخیرکی ذمےداری موجودہ بیوروکریسی پربھی ڈالی گئی، ‏ادائیگیوں میں تاخیرسے9ملین ڈالر جرمانہ ادا کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری فنانس عوام اور حکومت کو جوابدہ ہیں، کاوےموسوی ایک ‏ناقابل اعتبار شخص ہیں، موسوی کےالزامات براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کےٹی اوآرسےباہرہیں، ‏کاوے موسوی کے الزامات پر تحقیقات کا فیصلہ حکومت کرے۔

آصف زرداری کےسوئس کیسز کا ریکارڈبھی کمیشن رپورٹ کاحصہ ہے جب کہ جن ڈپلومیٹک بیگز ‏میں ریکارڈ ہے انکی تصاویر بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ڈپلومیٹک بیگز کے باہرانونٹری انگریزی،فرینچ ‏زبان میں لگی ہے۔

پاکستان کی میوچل لیگل اسسٹنس کی لسٹ بھی رپورٹ میں شامل ہے۔ لسٹ کھولناہےیا نہیں ‏فیصلہ اٹارنی جنرل یاوزارت قانون کرے۔

براڈشیٹ کمیشن رپورٹ میں نواز شریف کےسعودی عرب جانے کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔

براڈ شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف

واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعیدشیخ کی سربراہی میں قائم براڈ شیٹ کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم ‏ہاؤس کو موصول ہوگئی، جس میں براڈشیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈ غائب ‏ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن نے رپورٹ حکومت کوبھجوادی ، رپورٹ جوائنٹ سیکریٹری زاہد مقصود ‏نے وصول کی، جس میں کمیشن نے مجموعی طور پر 26 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے جبکہ ایک ‏سابق خاتون لیگل کنسلٹنٹ طلبی کے باوجود کمیشن میں پیش نہیں ہوئیں۔

اے آر وائی نے براڈ شیٹ انکوائری کمیشن رپورٹ کے مندرجات حاصل کر لئے، رپورٹ میں براڈ ‏شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کمپنی کی 15 لاکھ ڈالر رقم کی غلط ادائیگی کی گئی، غلط شخص کو ‏ادائیگی ریاست پاکستان کے ساتھ دھوکہ ہے، ادائیگی کو صرف بے احتیاطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت خزانہ، قانون، اٹارنی جنرل آفس سے فائلیں چوری ہو گئیں جبکہ ‏پاکستانی ہائی کمیشن لندن سے بھی ادائیگی کی فائل سے اندراج کا حصہ غائب ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق براڈشیٹ کمیشن کو تمام تفصیلات نیب کی دستاویزات سے ملی ہیں۔

یاد رہے حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں براڈ شیٹ معاملے پر ‏انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا‏ اور انتیس جنوری کو قائم کردہ کمیشن نے تحقیقات کا باضابطہ ‏آغاز نو فروری کو کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں