The news is by your side.

Advertisement

بھارت: سفاکیت کی انتہا، گھر کے باہر سوئے شخص کو ذبح کردیا

نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کے واقعات تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں، کبھی انتہا پسندوں کی جھتے نہتے مسلمان شخص کو نام پوچھ کر قتل کردیتے ہیں تو کھبی گائے چوری کے الزام میں مسلمانوں کا خون بہادیا جاتا ہے۔

مسلم دشمنی پر مبنی واقعات میں ایک اور اضافہ بھارتی ریاست بہار میں ہوا، جہاں گھر کے باہر سوئے مسلم نوجوان کا بے رحمی سے گلہ کاٹ دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین پور تھانہ حلقہ کے سربٹ موضع کے رہائشی سید خان کو گزشتہ رات نامعلوم شرپسندوں نے بے رحمی سے گلا کاٹ کر قتل کردیا، واقعے کے بعد علاقے میں خوف وہراس اور سنسنی کا ماحول ہے۔

چین پور تھانہ حلقہ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سربٹ موضع کا رہائشی سید خان گزشتہ رات گھر کے باہر سورہا تھا کہ نامعلوم جراٸم پیشہ افراد نے سید خان کا بے رحمی سے گلا کاٹ کر قتل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں خاتون مسلمان سب انسپکٹر کا زیادتی کے بعد قتل

واقعے کی اطلاع مقتول کے اہل خانہ کو صبح ملی تو مقامی لوگ جائے حادثے پر پہنچے اور پولیس کو اس کی اطلاع دی، پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردیا اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کی تین تاریخ کو سنگم وہار کی رہائشی 21 سالہ صبیحہ سیفی کے ساتھ چار درندہ صفت ملزمان نے اجتماعی زیادتی کرتے ہوئے لڑکی کے جسم کے نازک حصوں کو چاقو سے کاٹ کر بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

اس اندوہناک اجتماعی زیادتی میں ظلم کی تمام حدیں پار کردی گئیں، واقعہ کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے ساتھ ہی ملک کے مختلف شہروں میں مقتولہ صبیحہ سیفی سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے عوامی سطح پر مظاہرے کیے گئے تاہم تاحال لواحقین کو اب تک انصاف فراہم نہیں کیا جاسکا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں