The news is by your side.

Advertisement

قدیم ایرانی تہذیب کے مرکز بخارا کا طرزِ تعمیر اور جیومیٹری پیٹرن

آپ نے بخارا کا شہرہ و نام بہت سنا ہو گا۔ یہ قدیم ایرانی تہذیب کا اہم ترین مرکز اور نمایاں شہر تھا جہاں کئی نادرِ روزگار شخصیات نے جنم لیا، کئی عالم فاضل اس شہر سے وابستہ ہوئے اور یہ علم و فنون، ہنر اور صنعت گری کے سبب عالم میں ممتاز ہوا۔

بخارا کا طرزِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ایرانی تاریخ اور فن کے ستونوں میں سے ایک ہے۔ موجودہ دور میں یہ شہر ازبکستان کا پانچواں سب سے بڑا اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے۔

بخارا میں کئی قدیم مساجد، مدارس اور دوسری شان دار عمارتیں آج بھی سیروسیّاحت کے لیے آنے والوں کو اپنی انفرادیت کے لیے کھینچتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ بخارا میں ایرانی تمدن و تہذیب کی جھلک اس کے طرزِ تعمیر اور آثار قدیمہ سے آج بھی نمایاں‌ ہے اور یہ مقامات قدیم فارس کے فنِ معماری کے ستونوں میں سے ایک ہیں۔

صدیوں قبل وسیع پیمانے پر تعمیراتی کاموں کے دوران مختلف تکنیکیں اپنائی گئی تھیں جنھیں اس دور کے اذہان نے اپنے زمانے کے مختلف علوم جیسے ریاضی، جیومیٹری کے علاوہ ہنر و اختراع جیسے رنگ ریزی، نقّاشی، گُل کاری، شیشہ گری، خوب صورتی و دل کشی کی مدد سے نہایت مہارت اور مشّاقی سے برتا اور عظیمُ الشّان عمارتیں بنائیں۔

ماہرین کے مطابق ابتدائی تعمیراتی مواد میں اینٹوں کو آرائشی شے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ یہ اینٹیں کاشی گری کے ساتھ خطّاطی کے نمونوں سے سجائی جاتی تھیں، اور ماہر خطّاط، مصوّر انھیں اپنے فن سے نئی جہت عطا کرتے تھے۔ان پر عربی، کوفی اور نسخ رسمُ الخط سے آیات و ابیات لکھے جاتے تھے۔ مصوّر ان اینٹوں پر گُل بوٹے بناتے اور یہ پودوں، پھولوں، بیلوں سے مزّین دیوار کے طور پر عمارت کا حصّہ بن جاتی تھیں۔

یہاں ہم ایک خاص جیومیٹری پیٹرن (girikh) کی بات کریں گے جو دسویں صدی سے آرائشی مصوّری کے طور پر متعارف ہوا۔ یہ عربی اصطلاح جیومیٹری نمونوں اور اپنے پیٹرن کے بنیادی عنصر، دونوں کی مہارت کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس سے اس وقت ریاضی میں عروج و کمال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس دور میں جیومیٹری سے فنِ تعمیر میں مدد لی گئی تھی اور اس کے نمونے آج بھی ان یادگاروں میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ آج اسی پیٹرن میں ازبکستان اور دنیا میں جدید تعمیرات کے دوران بھی مدد لی جارہی ہے۔

مؤرخین اور محققین کا کہنا ہے کہ بخارا ایک ایسا شہر ہے جو تاریخ و آثارِ قدیمہ میں دل چسپی رکھنے والوں، بالخصوص طالبِ علموں کو عظمتِ رفتہ کی یاد ہی نہیں دلاتا بلکہ ان پر علم و فنون کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں