site
stats
صحت

ایشیا میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات میں خطرناک اضافہ

پیرس: عالمی اداروں کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر میں 5.9 ملین کمسن بچے ہلاک ہوئے اور ان میں سے 60 فیصد کا تعلق ایشیا اور افریقہ کے صرف 10 ممالک سے تھا۔

عالمی ادارہ صحت اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے عالمی ادارہ صحت برائے اطفال کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افریقی ممالک میں 5 سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیا ہے۔ ان ممالک میں انگولا، عوامی جمہوریہ کانگو، ایتھوپیا، نائجیریا اور تنزانیہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادیاں ترقی اور صحت کے لیے خطرے کا باعث

دوسری جانب ایشیائی ممالک میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، اور انڈونیشا شامل ہیں اور یہاں شیر خوار بچوں کی موت کی اہم وجہ قبل از وقت پیدائش ہے۔

فہرست میں ایک اور نام چین کا بھی شامل ہے جو اپنی تمام تر ترقی کے باوجود بچوں کی پیدائش کے وقت ہونے والی پیچیدگیوں پر قابو پانے میں ناکام ہے جس کے باعث شیر خوار بچوں کی ایک بڑی تعداد موت کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔

infant-2

رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق ان تمام ممالک میں 1 ہزار نومولود بچوں میں سے 90 ہلاک ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دیگر ترقی یافتہ ممالک میں جہاں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح کم ہے، اموات کی وجوہات مختلف ہیں۔

ان ممالک جیسے امریکا اور روس میں 1000 میں سے صرف 10 بچے پانچ سال کی عمر سے قبل ہلاک ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ پیدائش میں مختلف پیچیدگیاں، اور چلنا شروع کرنے کے بعد مختلف حادثات جیسے ڈوبنا، جل جانا یا ٹریفک حادثے کا شکار ہونا ہے۔

ماہرین نے اس شرح پر قابو پانے کے لیے نمونیا، ملیریا اور ڈائریا کی ویکسین کی فراہمی، ماؤں کو اپنا دودھ پلانے اور پینے کے پانی اور صفائی کی صورتحال بہتر بنانے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

infants-3

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے طے کردہ پائیدار ترقیاتی اہداف میں صحت کا شعبہ تیسرے نمبر پر ہے اور اس میں سرفہرست کمسن بچوں کی اموات میں کمی کرنے کا ہدف شامل ہے۔

مزید پڑھیں: پائیدار ترقیاتی اہداف کیا ہیں؟

ان اہداف کے مطابق ایسے اقدامات اٹھانے ضروری ہیں جن کے بعد سنہ 2030 تک غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح کم ہو کر زیادہ سے زیادہ 25 تک آجائے۔ فی الحال یہ شرح 1000 بچوں میں 90 بچوں کی اموات کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top