The news is by your side.

Advertisement

اللہ کی رضا بیٹے سے زیادہ اہم ہے، والد برہان وانی

سری نگر: وادی جموں کشمیر میں بھارت کی قابض افواج کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کرنے والے شہید برہان وانی کے والد کا فخریہ کہنا ہے کہ ’’میرا بیٹا اپنے رب کے پاس چلا گیا‘‘۔

گزشتے ہفتے بھارتی افواج نے کئی سال سے مطلوب حریت پسند کمانڈربرہان وانی کو ان کے دوساتھیوں سمیت شہید کردیا تھا، برہان وانی کے سرپر دس لاکھ رپے کا انعام تھا۔

burhan-post-1

سوشل میڈیا پرمتحرک برہان وانی کشمیری تحریکِ آزادی میں نوجوانوں کے لیے ایک افسانوی کردار کی سی اہمیت رکھتاتھا اور اس کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں حریت کی نئی روح پھونک دی ہے جس کے بعد بھارت کی قابض فوج کشمیریوں کے حقِ رائے دہی کو دبانے کے لیے تشدد پراتر آئی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 35 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں اورگلی کوچوں میں پاکستان کے پرچم لہرائے جارہے ہیں۔

بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے برہان وانی کے والد مظفروانی کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے لیے ہمارے بیٹوں سے زیادہ اہم ہمارا دین ہے‘‘۔

burhan



گزشتہ سال اکتوبر میں ہندوستان ٹائمز کو باضابطہ انٹرویو دیتے ہوئے مظفروانی کا کہنا تھا کہ ’’برہان اور مجھ سمیت وادی جموں کشمیر میں رہنے والے ہرشخص کا بنیادی مقصد بھارت سے آزادی حاصل کرنا ہے حالانکہ یہ ایک مشکل کام ہے‘‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’’بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اگرہم اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو اپنے رب کے حضور سرخرو پیش ہوتے ہیں‘‘۔

مظفر وانی نے کہا کہ ’’اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جو کوئی بھی بھارتی تشدد اور بربریت کا نشانہ بن کر مارا جائے، وہ مرتا نہیں ہے بلکہ اِس جہان سے اُس جہان منتقل ہوجاتا ہے جہاں کسی قسم کا ظلم اورنا انصافی نہیں ہوگی، جیسا کہ ہم سے قرآن میں وعدہ کیا گیا ہے‘‘۔

burhan-post-2

برہان وانی کے والد نے اپنے بیٹے کی آزادی کے لیے کی جانے والی کاوشوں پرفخرکا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی غلامی میں شرمندگی کے ساتھ زندہ رہنے سے ہم لوگ عزت سے مرجانا بہترسمجھتے ہیں۔

سال بھر پہلے دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے انتہائی اطمینان کے ساتھ کہا کہ ’’ہاں میں جانتا ہوں کہ میرے بیٹے نے جو راستہ چنا ہے ایک دن وہ مارا جائے گا‘‘۔

’’کبھی کبھی یہ خیال مجھے تکلیف بھی دیتا ہے لیکن ہمارے لیے اللہ ، قرآن اور ہمارے نبی کی ذات ہر شے پر مقدم ہے، یہاں تک کہ ہمارے جگر کے ٹکڑوں سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے‘‘۔

burhan-post-3

مظفروانی کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اپنے رب کی رضا کی اہمیت سب سے زیادہ ہے چاہے اس کے لیے انہیں اپنی یا اپنے بیٹے کی جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔


کشمیر کی موجودہ صورتحال پر مبصرین کا کہنا ہے کہ برہانی وانی کی شہادت سے کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوگیا ہے اوریہ باب آگے چل کرایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں