The news is by your side.

Advertisement

ایک بس ڈرائیور کا سڑک پر آخری دن

وہ عام بس تھی اور سروپ سنگھ عام ڈرائیور۔ سواریوں نے سوچا تھا کہ بھیڑ والے علاقے سے باہر آ کر بس کی رفتار تیز ہو جائے گی، لیکن آج ایسا نہیں ہوا….

سروپ سنگھ کے ہاتھ سخت ہی نہیں ملائم بھی تھے۔ اس کا دل آج بہت پگھل رہا تھا، وہ کبھی بس کو کبھی سواریوں کو اور کبھی باہر دوڑتے بھاگتے پیڑوں کو دیکھنے لگتا، جیسے وہاں کچھ خاص بات ہو۔ کنڈکٹر اس راز کو جانتا تھا، لیکن سواریاں بس کی دھیمی رفتار سے پریشان ہو رہی تھیں۔

’’ڈرائیور صاحب ذرا تیز چلاؤ، آگے بھی جانا ہے۔‘‘ ایک نے نہایت کڑوے لہجے میں کہا۔

سروپ سنگھ نے مٹھاس گھولتے ہوے کہا۔ ’’آج تک میری بس کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا۔۔۔‘‘

سواریاں اور بھی غصے میں آگئیں۔ ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیس، تیس کی ڈھیچم ۔۔۔ ڈھیچم رفتار سے چلاؤ۔‘‘ دو چار تو کچھ برا بھلا بھی کہنے لگے۔

کوشش کرنے کے باوجود سروپ سنگھ بس کی رفتار تیز نہیں کر پا رہا تھا۔اس نے بڑھتے ہوئے شور میں بس روک دی، اپنا چہرہ گھما کر بولا۔

’’بات یہ ہے کہ اس راستے سے میرا تیس سال کا رشتہ ہے، آج میں آخری بار اس راستے پر بس چلا رہا ہوں۔

بس کے اپنے مقام پر پہنچتے ہی میں ریٹائر ہو جاؤں گا، اس لیے۔۔۔۔‘‘ اس کی آواز رُندھ گئی۔

(اشوک بھاٹیہ کی اس مختصر کہانی کا عنوان “رشتے” ہے، جو ایک انسان کے اپنے کام، اس کے استعمال کی کسی مشین، شے یا کسی راستے سے اس کے برسوں پرانے تعلق کو جذباتی انداز سے پیش کرتی ہے، اس ہندی کہانی کو محمد افضل خان نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں