The news is by your side.

Advertisement

’’ایمیزون کا مالک ’مونا لیزا‘ کو خریدے اور کھا جائے”

پیرس: سوشل میڈیا پر مقبول ہونے والی ایک آن لائن پٹیشن میں دنیا کے امیر ترین آدمی اور ایمیزون سمیت کئی بڑی کمپنیوں کے مالک جیف بیزوس سے کہا گیا ہے کہ وہ مشہور زمانہ پینٹنگ ’مونالیزا‘ کو خریدے اور کھا جائے۔

یہ حقیقت نہیں بلکہ ایک انوکھی پٹیشن ہے جو آج سے تقریبا ایک سال قبل سوشل میڈیا صارف کین پاول نے ’’چینج ڈاٹ آرگ‘‘ نامی ویب سائٹ پر رکھی تھی۔

پٹیشن میں لکھا تھا کہ کسی نے مونا لیزا کو نہیں کھایا اور ہم سمجھتے ہیں کہ جیف بیزوس کو یہ کام کر دکھانا چاہیے۔

چینج ڈاٹ آرگ کے مطابق اس پٹیشن پر 7500 دستخطوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، کئی ماہ تک یہ آن لائن پٹیشن کوئی توجہ حاصل نہیں کر پائی لیکن گزشتہ چند دنوں میں اس میں اچانک تیزی آئی اور اب تک ہزاروں لوگ اس پر دستخط کرچکے ہیں جبکہ یہ سلسلہ جاری ہے، بہت ممکن ہے کہ 7500 دستخطوں کا ہدف ایک سے دو دن میں حاصل کرلیا جائے۔

دوسری جانب کئی سوشل میڈیا صارفین یہ سوال کررہے ہیں کہ آخر جیف بیزوس کو کیا پڑی ہے کہ وہ مونا لیزا کی پینٹنگ خریدے اور پھر اسے کھائے بھی؟، کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں، البتہ اس حوالے سے قیاس آرائیاں ضرور جاری ہیں۔

واضح رہے کہ مونا لیزا کی مسکراہٹ آج ساری دنیا میں خوبصورت مسکراہٹ کا استعارہ ہے  نامعلوم خاتون کی یہ خوبصورت پینٹنگ، مشہور یورپی مصور لیونارڈو ڈاونسی کا عظیم ترین شاہکار بھی قرار دی جاتی ہے۔

یہ پینٹنگ حکومتِ فرانس کی ملکیت ہے اور مشہورِ زمانہ ’’لوورے‘‘ آرٹ گیلری میں رکھی ہے، یاد رہے کہ مونا لیزا ’’برائے فروخت‘‘ ہرگز نہیں اور نہ ہی فرانسیسی حکومت کا اسے نیلام کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

نایاب اشیاء کی نیلامی میں مہارت رکھنے والے بعض افراد کا کہنا ہے کہ اگر مونا لیزا کی یہ پینٹنگ کبھی نیلام ہوئی تو اس کی کم از کم قیمت 60 ارب ڈالر ہونی چاہیے، اتنی زیادہ قیمت والی پینٹنگ خریدنا کسی معمولی انسان کے بس میں نہیں، لیکن ایسا کرنا جیف بیزوس کےلیے کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ تقریباً 180 ارب ڈالر کے ذاتی اثاثوں کے ساتھ وہ دنیا کا امیر ترین آدمی ہے۔

یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ مونا لیزا کی پینٹنگ خریدنا تقریباً ناممکن ہے جسے جیف بیزوس ممکن بنا سکتا ہے، لیکن اس پٹیشن میں پینٹنگ خرید کر کھانے کا مطالبہ کیوں کیا گیا ہے؟ اس کی وجہ کسی کو نہیں معلوم۔

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کچھ پوچھنے کی زحمت گوارا کیے بغیر ہی اس پٹیشن پر دستخط کیے جارہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں