ضمنی انتخابات 2018، پولنگ کا وقت ختم -
The news is by your side.

Advertisement

ضمنی انتخابات 2018، پولنگ کا وقت ختم

اسلام آباد: ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 35 نشتوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، لوگوں نے بڑی تعداد میں حق رائے دہی استعمال کیا اور ملکی تاریخ میں پہلی بار سمندر پار پاکستانیوں نے بھی آن لائن ووٹ کاسٹ کیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشتوں پرضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔

ضمنی انتخابات میں قومی اور پنجاب اسمبلی کی 11 نشستوں کے ساتھ خیبرپختونخواہ اسمبلی کی 9، سندھ اور بلوچستان کی 2،2 نشستوں پرووٹنگ ہوگی اور 600 سے زائد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر35 حلقوں میں 92 لاکھ 93 ہزار 74 ووٹرز  تھے جنہیں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا، ووٹنگ کے لیے 7 ہزار 489 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے جبکہ ایک ہزار727 پولنگ اسٹیشن کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

اپ ڈیٹس


شام 5:06، الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے دوران پنجاب سے 19، خیبرپختونخواہ سے 2 اور سمندرپار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے حوالے سے 3 شکایات موصول ہوئیں جبکہ بلوچستان اور سندھ سے کوئی شکایات نہیں ملی۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’کل 5 ہزار 881 سمندر پار پاکستانیوں نے ووٹ کاسٹ کیا، جن میں سے 4 ہزار864 اوورسیز پاکستانیوں نےقومی اسمبلی کےحلقوں کےلیےووٹ کاسٹ کیا۔

شام 5:00 : الیکشن کمیشن کے قانون کے تحت پانچ بجتے ہی پولنگ کا وقت ختم ہوا البتہ پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت ملی، وقت ختم ہونے کے بعد آر اوز نے بیلٹ باکسز کھول کو گنتی کا عمل شروع کیا۔

شام 4:30: سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے تاحیات سربراہ نوازشریف اپنی والدہ بیگم شمیم اختر اور مریم نواز کے ہمراہ ووٹ کاسٹ کرنے گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج پہنچے، اُن کا استقبال شاہد خاقان عباسی نے کیا اس موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔

نوازشریف کی گاڑی کو عوام نے گھیرے میں لیا جس کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر  اہلکاروں نے اُن کی گاڑی کو پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی اجازت دی، الیکشن کمیشن قوانین کے تحت اس طرح اجازت نہیں دی جاتی، شناختی کارڈ نہ ہونے کے باعث ریٹرننگ آفیسر نے نوازشریف کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد وہ بغیر ووٹ کاسٹ کیے وہاں سے روانہ ہوگئے۔

شام 4:00: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 فاروق آباد مین پولنگ اسٹیشن کے باہر دو سیاسی جماعتوں کے درمیان جھگڑا ہوا جس میں تحریک انصاف کے 3 کارکنان زخمی ہوئے، پی ٹی آئی کارکنان نے الزام عائد کیا کہ انہیں مسلم لیگ ن کے لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

دوپہر 3:38: قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 میں دلچسپ صورتحال اُس وقت دیکھنے میں آئی جب دلہا حق رائے دہی استعمال کرنے پہنچا۔ شہری محمد پرویز کا کہنا تھا کہ ووٹ مقدس امانت ہے، سب کو باہر نکلنا چاہیے۔

Groom

اسی طرح لاہور  کے صوبائی حلقے پی پی 164 میں بھی دلہادلہن کولینےسےپہلےووٹ ڈالنے پہنچا، شہری کا کہنا تھا کہ دلہن کو بعد میں لینے جاؤں گا پہلے ووٹ ڈالنا چاہتا ہوں کیونکہ ملک میں تبدیلی آنی چاہیے اس کے لیے ہم سب کو نکلنا ہوگا۔
دوپہر 3 بج کر 12 منٹ پر لاہور میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی البتہ ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں نے دونوں جماعتوں کے کارکنان کو منتشر کیا۔

دوپہر 2:48 ، الیکشن کمیشن کے ترجمان نے اووسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ میں دلچپسی سے متعلق آگاہ کیا اور بتایا کہ اب تک 5 ہزار سے زائد لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

دوپہر 2:18، الیکشن کمیشن کے ترجمان نے ووٹنگ کا وقت بڑھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جماعت نے ابھی تک اس کا مطالبہ نہیں کیا، پانچ بجے تک جو لوگ پولنگ اسٹیشنز کے اندر ہوں گے وہی ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔

این اے 53 ضمنی انتخاب

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 53 میں وزیراعظم عمران خان نے موہڑہ نوراسکول بنی گالہ میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

این اے 243 ضمنی انتخاب

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 243 میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عالمگیر خان نے گلشن کالج میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

مردان پی کے 53 ضمنی انتخاب

صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہرمردان میں 98 سالہ بزرگ شہری نے ہار نہ مانی اور پولنگ اسٹیشن پہنچ کراپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

این اے 131 ضمنی انتخاب

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 131 میں مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ووٹ کاسٹ کیا۔

این اے 63 ضمنی انتخاب

وفاقی وزیر پٹرولیم وقدرتی وسائل غلام سرور خان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 63 راولپنڈی میں ووٹ کاسٹ کیا۔

چوہدری شجاعت حسین

مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے گجرات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ موجودہ حکومت کو کامیاب کرے۔

پنجاب کے حلقہ پی پی 87 میانوالی اور پی پی 296 راجن پور پرامیدوار بلامقابلہ کامیاب ہوئے

ضمنی انتخابات 2018: ووٹر کے لیے خصوصی ہدایات

ضمنی انتخابات میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوجی جوان پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر تعینات کیے گئے  جبکہ ایک لاکھ سے زائد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار وں نے بھی خدمات سرانجام دیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیکیورٹی اسٹاف کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کیا جس کے مطابق سیکیورٹی اسٹاف، پریذائیڈنگ افسرآراوز کے ماتحت رہے۔

الیکشن کمیشن نے وزارت توانائی کو ہدایت جاری کی تھی کہ پولنگ کے دوران متعلقہ حلقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں