The news is by your side.

Advertisement

ضمنی انتخابات پی ایس 127، عوامی پذیرائی کا فیصلہ آج ہوگا

کراچی: سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 127 میں انتخابی دنگل آج سجے گا جس میں 20 امیدوار مدِ مقابل ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 127 میں انتخابی معرکہ آج ہوگا۔ جس میں ایم کیو ایم کو اپنی نشست برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز درپیش ہیں جبکہ پیپلزپارٹی اپنی کھوئی ہوئی نشست دوبارہ حاصل کرنے کےلیے سرگرم ہے۔

اس حلقے میں مجموعی طور پر 134 پولنگ اسٹیشن ہیں جن میں 116 کوانتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ ملیر، گڈاپ اور دیگر علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں 2لاکھ 7ہزار467 رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے, شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں ملیر کھوکھرا پار، جعفر طیار، بروہی گوٹھ، سچل گوٹھ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔

ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم کی جانب سے سابق رکن سندھ اسمبلی وسیم احمد کو ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ غلام مرتضیٰ بلوچ ،پیپلز پارٹی، ندیم میمن تحریک انصاف اور مہاجر قومی موومنٹ کے ثنا اللہ قریشی سمیت 20 امیدوار مدمقابل ہوں گے۔

پی ایس 127 کی نشست ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اشفاق منگی کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اور مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ سابق رکن اسمبلی نے 18 اپریل کو متحدہ قومی موومنٹ کو الوداع کہتے ہوئے پارٹی اور اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے عبد اللہ مراد بلوچ اس حلقے سے 2002 میں اسمبلی ممبر منتخب ہوئے تھے تاہم 2004 میں عبد اللہ مراد بلوچ کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی اس حلقے میں دوبارہ فتح حاصل نہیں کرسکی جبکہ ایم کیو ایم کے امیدوار اس نشست پر تین مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں۔

انتخابات کے لیے 134 پولنگ اسٹیشن جبکہ 487 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں جن میں سے 253 مردوں جبکہ 234خواتین کے پولنگ بوتھ ہیں۔ پی ایس 127 میں 2 لاکھ 7 ہزار 467ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد مرد ووٹرز جبکہ 91 ہزار سے زائد خواتین ووٹرز ہیں۔سندھ حکومت کی جانب سے ضمنی انتخابات کے موقع پر کورنگی اور ملیر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

پی ایس 127 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس اور حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ پولیس کے ساتھ رینجرز بھی پولنگ اسٹیشنز میں تعینات کی جائے گی۔ رینجرز کے افسران کو پولنگ بوتھ پر تعینات کرکے مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے بھی ضمنی انتخابات کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ڈسٹرکٹ کے تمام ایس پی، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کو پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 500 سے زائد پولیس افسران و جوان ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔

ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹیوں کی عوامی پذیرائی پر ایک تجزیاتی رپورٹ

پیپلزپارٹی

Election-PPP

اس حلقے میں گوٹھ اور مضافاتی علاقوں میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے تاہم سٹی ایریاز میں عوامی سطح پر کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے عہدے کا منصب سنبھالنے کے بعد کئی بار ملیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے بھی اقدامات کیے۔

متحدہ قومی موومنٹ

Election-MQM

موجودہ سیاسی صورتحال الزامات ، اشتعال انگیز تقریر اور بانی تحریک سے لاتعلقی کے بعد ایم کیو ایم کو اس حلقے میں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ کراچی کا مینڈیٹ بانی ایم کیو ایم کی اپیل اور حکم کے تابع ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کے سربراہ ایم کیو ایم پاکستان بننے کے بعد اس نشست پر فتح ہونے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں یا نہیں کیونکہ شہر آج تک کے ریکارڈ کے مطابق کراچی میں ہونے والے کسی بھی ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ایم کیو ایم نے ہی فتح حاصل کی ہے۔

مہاجرقومی موومنٹ

Election-H

ملیر میں دوبارہ کارکنان کی انٹری کے بعد ایم کیو ایم حقیقی بھی اپنا امیدوار میدان میں لائی ہے۔ پی ایس 127 کے حلقے میں ایم کیو ایم (حقیقی) کی پوزیشن بظاہر بہتر نظر نہیں آرہی ہےکیونکہ اُن کے کارکنان کے رویوں اور دیگر شکایات کے باعث عوامی رجحان میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

تحریک انصاف

ELECTION-PTI

پی ٹی آئی کی جانب سے اس حلقے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی تاہم چیئرمین تحریک انصاف کے کراچی دورے پر کپتان نے امیدوار کے گھر جاکر ناشتہ کیا اور انتخابات کے حوالے سے کسی قسم کی اپیل یا مہم نہیں چلائی گئی۔

علاوہ ازیں دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواران کی جانب سے اس حلقے میں الیکشن مہم چلائیں گئی ہیں تاہم اس نشست پر اصل مقابلہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے امیدوار کے درمیان ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس جماعت کا امیدوار اس نشست پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں