The news is by your side.

Advertisement

کابینہ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کا پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ

لاہور: کابینہ سب کمیٹی برائے داخلہ اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم جلسے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ لاہور نے پی ڈی ایم کی جلسے کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے، ضلعی انٹیلی جنس اور صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی نے جلسے کی جازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پنجاب سول ایڈمنسٹریشن ایکٹ کے تحت عوام کے تحفظ کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، غیر قانونی اجتماع کی صورت میں ناخوش گوار واقعے کی ذمہ داری جلسے کے منتظمین پر عائد ہوگی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی، این سی او سی کی جانب سے پہلے ہی 300 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔

دوسری طرف پی ڈی ایم جلسے کے سلسلے میں کابینہ سب کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس بلایا گیا تھا، وزیر قانون پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں بڑے فیصلے کیے گئے ہیں۔

کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق این سی او سی اور محکمہ صحت کی جاری ہدایات کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہیں ہوگی، کرونا اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر جلسے سے اجتناب کرنا چاہیے، پی ڈی ایم قیادت کے حوالے سے دہشت گردی کے سنجیدہ خدشات ہیں، نیکٹا اور دیگر اداروں کے جاری الرٹ سے پی ڈی ایم قیادت کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی اجلاس میں مقدمات میں نامزد کارکنان کو آج شام تک حراست میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دیگر شہروں سے آنے والوں کی بسیں روکنے کا اختیار متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ہوگا، رہنما جلسہ گاہ پہنچتے ہیں تو سادہ لباس کپڑوں میں سیکورٹی انتظامات ہوں گے۔

وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ اپوزیشن کی ہٹ دھرمی عوام کی جانوں کے لیے خطرناک ہوگی، اپوزیشن تصادم چاہتی ہے اور حکومت یہ موقع فراہم نہیں کرے گی، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

انھوں نے کہا سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، ایس او پیز پر عمل عدالتی اور این سی او سی فیصلے کے تناظر میں ہے، ان فیصلوں پر عمل کی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یکساں ہے، اپوزیشن ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں