The news is by your side.

Advertisement

مودی حکومت کی شدت پسندی، تاریخی شہر ’الہٰ آباد‘ کا نام تبدیل کرنے کی منظوری

الہٰ آباد کا نیا نام پریاگ راج ہوگا

نئی دہلی: بھارتی ریاست اترپردیش کی کابینہ نے تاریخی شہر الہٰ آباد کا نام تبدیل کر کے ’پریاگ راج‘ رکھنے کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے الہٰ آباد کے نام کو تبدیل کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد اس شہر کا نام ’پریاگ راج‘ ہوگا۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے نئے نام کی منظوری ملنے کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مغلیہ دور میں عمارتوں، شہروں اور شاہراوں کے تفویض کردہ ناموں کو تبدیل کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ 16ویں صدی کے ابتدا میں مغل حکمرانوں نے پریاگ راج کا نام تبدیل کر کے الٰہ آباد رکھ دیا تھا۔

ریاست اترپردیش کے وزیر صحت سدھارتھ سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’پریاگ راج نام کی مخالفت کرنے والے تاریخی حقائق سے واقف نہیں، اگر مطالعہ کیاجائے تو انہیں علم ہوجائے گا کہ الہٰ آباد کا اصل نام کیا تھا‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ نام تبدیل کرنے پر واویلا مچانے والے افراد کے والدین کی جانب سے دیے جانے والے نام اگر تبدیل کردیے جائیں تو انہیں کیسا لگے گا؟

پڑھیں: یوگی ادتیہ کا تاریخی شہر الہٰ آباد کا نام تبدیل کرنے کا اعلان

وزیر توانائی شری کانت شرما کا کہنا تھا کہ ’مزید تاریخی شہروں، عمارتوں کے نام تبدیل کیے جا سکتے ہیں کیونکہ حکومت ناموں کو تبدیل کرنے کا حق رکھتی ہے، آئندہ ضرورت کے مطابق ناموں کی تبدیلی کی جائے گی تاکہ جو غلطیاں ماضی میں ہوئیں اُن کا ازالہ کیا جاسکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے وزیر اعلیٰ رواں سال 30 نومبر کو شروع ہونے والے کنبھ میلے سے قبل الہٰ آباد کا نام تبدیل کرکے مودی کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اس قرار داد کو کابینہ سے منظور کروایا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام تبدیل کرنے کے حکومتی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے مشہور الہٰ آباد کا نام بدلنے سے علاقے کی پہچان متاثر ہوگی اور اس کا اثر تعلیمی و معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑے گا۔

واضح رہے کہ یوگی آدیتیہ ناتھ نے اترپردیش کا وزیراعلی بننے کے بعد مسلمانوں کا جینا محال کررکھا ہے، پہلے حکومت نے گائے کے گوشت پر پابندی عائد کی اُس کے بعد تاریخی تاج محل کو مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے عام عمارت قرار دیا تھا۔

الہٰ آباد کی تاریخی اہمیت

گنگا جمنا کے سنگم پر آباد الہٰ آباد کو بھارت کی ریاست اترپردیش کا قدیم شہر  ہونے کا اعزاز حاصل ہے، یہاں تجارتی مراکز، ہندوؤں کا مقدس مقام اور ریلوے کا بہت بڑا جنکشن موجود ہے۔

علاوہ ازیں یہاں بادشاہ اکبر کا ایوان، جامع مسجد، زمین دوز قلعہ اور خسرو باغ سمیت قدیمی قابل دید تاریخی عمارات بھی موجود ہیں، اس علاقے پر مسلمانوں نے طویل عرصہ حکومت کی، 1857 میں جب جنگ آزادی کے دوران اس علاقے پر انگریزوں نے قبضے کی کوشش کی تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، چار سال کی طویل جدوجہد کے بعد انگریز نے 1861 میں اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرکے اپنی حکومت قائم کی۔

ریاست اترپردیش میں واقعہ یہ شہر بھارت کا گنجان آباد شہری ہے ، یہاں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں جن کی شناخت الہٰ آبادی کے نام سے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی یوگی آدیتیہ ناتھ نے تاج محل کو مسلمانوں کی نشانی قراردے دیا

الہٰ آباد دورِ قدیم سے ہی علمی اہمیت رکھتا ہے اسی وجہ سے اس علاقے کو کالجوں اور تحقیقی اداروں کا گھر قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں بہت سے قدیم مندر اور محل موجود ہیں جو ہندو کتب کے مطابق مذہب میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ 1857 کی جنگ آزادی میں یہاں مولوی لیاقت علی نے علم بغاوت بلند کیا۔

الہ آباد ہی وہ شہر ہے جہاں 1930 کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں علامہ محمد اقبال نے اپنا تاریخی خطبہ دیا جسے ’خطبہ الہ آباد ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، شاعر مشرق نے اپنے خطبے میں مسلمانوں کی مشکلات، ان کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی تھی۔

علاوہ ازیں اردو ادب کے کئی عظیم نام الہ آباد میں پیدا ہوئے جن میں اکبر الہٰ آبادی، نوح ناروی، فراق گورکھپوری، شبنم نقوی، راز الہ آبادی، عتیق الہ آبادی وغیرہ شامل ہیں۔

اس علاقے کو  بھارت کے وزرائے اعظم کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اب تک منتخب ہونے والے 13 میں سے 7 کا تعلق اسی علاقے سے تھا، پہلے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو، لال بہادر شاستری، ایندرا گاندھی، راجیو گاندی، گلزاری لال نندا، سوشو ناتھ، پرتاپ سنگھ اور چندر شیکھر شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں