The news is by your side.

Advertisement

توہینِ مذہب کے قانون میں اصلاحات کے مطالبے پراعتراض نہیں ہونا چاہیے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’توہینِ مذہب کے قانون میں اصلاح کی کسی درخواست کو توہین نہیں کہا جاسکتا ہے اور اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ اس قانون کو ختم کیا جارہاہے تاہم اصلاحات کا مقصد صرف توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام ہے‘‘۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اسلام ازخود کسی پر غلط اور جھوٹا الزام لگانے کو سنگین جرم قراردیتا ہے اور توہینِ مذہب کے قانون میں تحفظات کو یقینی بنانے کا مقصد یہی ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جاسکے اور اس پر کسی صورت اعتراض درست نہیں ہے۔

عدالت نے عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں سلمان تاثیر قتل کیس کے مرکزی مجرم ممتاز قادری کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو بھی خارج کردی، جس کی سزائے موت ایک عدالتی فیصلے کے تحت روکی گئی تھی۔

واضح رہے کہ ممتاز قادری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو 4 جنوری 2011کو قتل کیا تھا اور گرفتاری پر اعترافِ جرم بھی کیا تھا جس پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اسے دو مرتبہ سزائے موت کا سزاوار قرار دیا تھا تاہم مارچ 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممتاز قادری کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مجرم کی سزائے موت ملتوی کی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 39 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ توہینِ مذہب ایک غیر اخلاقی اور ناقابل برداشت جرم ہے تاہم کسی پر اس نوعیت کا الزام عائد کرنا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں