ہفتہ, جولائی 13, 2024
اشتہار

تم بھی حیوان ہو!

اشتہار

حیرت انگیز

عیدالضحیٰ کے موقع پر خاص طور پر بچّے اور نوجوان گلی محلّے میں قربانی کے جانور ٹہلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ وہ شغل ہے جس میں بکرے یا گائے کو ہونے والی تکلیف کی پروا اور بھوک پیاس کا خیال کیے بغیر اکثر منچلے انھیں دوڑنے پر مجبور کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ ان بے زبانوں کو طرح طرح‌ سے تنگ کیا جاتا ہے۔ اور یہ سب ناسمجھ بچّے ہی نہیں کرتے بلکہ اکثر بڑے اور بظاہر سمجھ دار لوگ بھی جانوروں سے نامناسب سلوک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

قربانی کے جانور ہوں‌ یا پالتو چوپائے اور پرند، مال مویشی یا پھر آوارہ کتّے اور بلیاں، بدقسمتی سے ہم ان کے ساتھ اکثر تکلیف دہ اور نامناسب رویہ اپناتے ہیں اور بعض واقعات ایسے ہیں‌ جن میں‌ انسانوں کی جانب سے ان بے زبانوں‌ پر ظلم اور زیادتی کی انتہا ہوگئی۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک اونٹ کی ٹانگ قطع کر دینے کے واقعے کا چرچا ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ سانگھڑ کے ایک علاقہ میں پیش آیا جس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل پر پولیس مقدمہ درج کرنے پر مجبور ہوئی۔ یہ مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بے زبان پر یہ ظلم ایک مقامی وڈیرے نے کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا مؤقف جاننے کے بعد بعض میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا کہ 13 جون کو ’منگلی پولیس تھانے کی حدود میں ایک وڈیرے نے کھیت میں کھڑی فصل کھانے پر اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی جس کے بعد اونٹ کے مالک نے کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ ویڈیو بنوائی اور اس ظلم کی طرف سب کو متوجہ کیا، وائرل ہوگئی اور ایس ایس پی سانگھڑ اعجاز احمد شیخ نے واقعے کا نوٹس لیا۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس تفتیش کررہی ہے جب کہ صوبائی حکومت نے اونٹ کی دیکھ بھال اور مصنوعی ٹانگ لگوانے کا اعلان کیا ہے۔

صرف دو دہائیوں کی بات کریں تو پاکستان میں یہ پہلا دردناک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی معمولی رنجش، لڑائی جھگڑے کا بدلہ چکانے، یا کھیت میں گھس کر فصل کو نقصان پہنچانے پر اشتعال میں آکر دوسرے کے مال مویشیوں، پالتو جانوروں پر تشدد ہی نہیں کیا گیا بلکہ انھیں مار دیا گیا اور یہ معاملہ تھانے تک بھی پہنچا۔ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے واقعے کو چند ہی روز گزرے تھے کہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں گدھے پر تشدد کا واقعہ سامنے آگیا جس کے نتیجے میں بار برداری کے کام آنے والے اس بے زبان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم گدھا گاڑی چلاتا ہے جس کے گدھے کی دوسری گاڑی میں جتے ہوئے گدھے سے لڑائی ہوگئی اور مالک نے دوسری گاڑی کے گدھے پر ڈنڈے برسا دیے جس سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

- Advertisement -

بے زبانوں پر ظلم ڈھانے کے انہی واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے سرکاری اور نجی پرائمری اسکولوں میں جانوروں کی اہمیت، اور ان کی فلاح سے متعلق نصاب میں مضمون متعارف کروایا تھا تاکہ ابتدائی عمر ہی سے بچّوں میں ان بے زبانوں سے اچھے سلوک کا شعور پیدا کیا جاسکے۔ نصاب کے ذریعے اس حوالے سے ذہن سازی کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جب کہ عید قرباں پر والدین خاص طور پر اپنے بچّوں میں جانوروں سے اچھا سلوک کرنے کا شعور اجاگر کر سکتے ہیں اور انھیں یہ سمجھا سکتے ہیں کہ ان بے زبانوں کی بھوک پیاس یا تکلیف اور درد کا خیال اسی طرح‌ رکھنا چاہیے جیسا کہ ہم ایک دوسرے کا رکھتے ہیں۔

پاکستان میں جانوروں سے متعلق قوانین کی بات کی جائے تو آج بھی یہاں نو آبادیاتی دور کے قوانین رائج ہیں جنھیں پریوینشن آف کروئلٹی ٹو اینیملز ایکٹ 1890ء کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے جانوروں کے ساتھ سلوک اور ان کے تحفظ کے لیے عالمی انڈیکس میں پاکستان درجہ بندی کے اعتبار سے بہت پیچھے ہے۔

یہاں ہم جمشید نسروانجی سے جڑا ہوا ایک واقعہ آپ کو سناتے چلیں‌ جنھیں بابائے کراچی کہا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسے باشعور اور رحم دل انسان بھی تھے جنھوں نے کراچی کے شہریوں‌ کے لیے ہی نہیں‌ بلکہ جانوروں کے تحفظ اور فلاح کے کام بھی انجام دیے۔ یہ واقعہ معروف ادیب علی محمد راشدی نے اپنی کتاب میں رقم کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 1930 کے آس پاس مَیں بندر روڈ سے گزر رہا تھا۔ دیکھا کہ جمشید مہتا پیدل ایک زخمی گدھے کو لے کر اسپتال کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کی موٹر، ان کا ڈرائیور پیچھے پیچھے چلاتا آ رہا تھا۔ تماشا دیکھنے کے لیے میں بھی اسپتال کے برآمدے میں جا کھڑا ہوا۔

جمشید نے اپنے سامنے گدھے کی مرہم پٹّی کرائی اور ڈاکٹر سے بار بار کہتے رہے کہ زخم کو آہستہ صاف کرے تاکہ بے زبان کو ایذا نہ پہنچے۔ مرہم پٹی ختم ہوئی تو ڈاکٹر کو ہدایت کی کہ گدھے کو ان کے ذاتی خرچ پر اسپتال میں رکھا جائے، اور دانے گھاس کے لیے کچھ رقم بھی اسپتال میں جمع کرا دی۔

دوسری طرف گدھے کے مالک سے بھی کہا کہ جب تک گدھے کا علاج پورا نہ ہو جائے اور وہ کام کرنے کے قابل نہ ہو جائے، تب تک وہ اپنی مزدوری کا حساب اُن سے لے لیا کرے، اور یہ کہتے ہوے کچھ نوٹ پیشگی ہی اسے دے دیے۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ان کی نظر میں انسان ہی نہیں جانور بھی جو ہمارے کام آتے ہیں اور بہت مددگار ہیں، ان کے بھی کچھ حقوق ہیں اور ان کے ساتھ ہم دردی اور انصاف سے پیش آنا چاہیے۔

کچھ عرصہ قبل کراچی کی ایک عدالت نے بلّی کی ہلاکت میں ملوث ایک خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا جسے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اس پر جامع قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ واقعہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 8 میں پیش آیا تھا جب سڑک پار کرنے والی ایک بلّی کار کی ٹکر سے شدید زخمی ہو گئی تھی، اور خاتون ڈرائیور نے موقع پر موجود شہری کی جانب سے بلّی کا علاج کرانے کے مطالبہ کو فضول تصور کرتے ہوئے انکار کردیا تھا۔ زخمی بلّی کچھ دیر بعد ہلاک ہوگئی تھی اور پولیس کے مقدمہ درج نہ کرنے پر شہری فائق احمد جاگیرانی عدالت پہنچ گئے تھے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت کسی بھی جانور کو نقصان پہنچانے والے کے خلاف جرمانے اور قید کی سزائیں مقرر ہیں۔ فائق احمد جاگیرانی کی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ خاتون ڈرائیور سے اگر کوئی قابلِ تعزیر جرم سرزد ہوا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

ہمارے معاشرے میں جانوروں کے ساتھ ناروا سلوک ایک عام بات ہے اور ان پڑھ شہری ہی نہیں‌ پڑھے لکھے اور اعلیٰ‌ تعلیم یافتہ لوگ بھی راہ چلتے ہوئے کسی آوارہ یا پالتو جانور کو تنگ کرنے، پتھر مارنے یا انسانی خطا اور زیادتی کے نتیجے میں اس کے زخمی ہوجانے یا ہلاکت کو اہمیت نہیں دیتے۔ باربرداری کے جانوروں سے بدسلوکی تو شاید ہم روز ہی دیکھتے ہیں، لیکن اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اگر بچّوں کو کم عمری ہی میں یہ بتایا اور سکھایا جائے کہ ہر بے زبان چوپائے اور پرند وغیرہ خواہ وہ آپ کے گھر میں ہوں یا وہ آوارہ جو گلی محلّوں میں پھرتے ہیں، ہماری طرح جان دار ہیں‌ اور درد یا تکلیف محسوس کرتے ہیں تو بچّوں میں ان سے انس اور لگاؤ بھی پیدا ہوگا اور قوی امکان ہے کہ وہ بڑے ہو کر کسی بھی موقع پر جانوروں کو تنگ کرنے یا تکلیف دینے سے گریز کریں‌ گے اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں گے۔

جانوروں کی دیکھ بھال اور ان کے تحفظ کے لیے کوششوں کرنے والی تنظیموں اور باشعور افراد کا کہنا ہے کہ بے زبانوں سے متعلق واضح قوانین کے ساتھ ساتھ لوگوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ہماری طرح تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں اور مار‌ پیٹ یا کسی بھی قسم کے تشدد پر وہی تڑپ اور اذیت محسوس کرتے ہیں جیسا کہ انسانوں کو ہوتی ہے۔ باشعور شہری سمجھتے ہیں کہ جانوروں کو غلطی سے یا جان بوجھ کر مارنے یا تکلیف پہنچانے پر بھی سخت جرمانہ یا کوئی اور سزا مقرر کی جائے تو ایسے واقعات میں بڑی حد تک کمی ہوگی۔

اسلام میں بھی جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ دینی تعلیمات پر نظر ڈالیں‌ تو جانوروں کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کے چارے، دانے، غذا اور پانی کا خیال رکھا جائے۔ یہ مال مویشی ہوں یا پالتو جانور اور پرندے ان کی خوراک کے ساتھ انھیں موسموں کی سختی سے بچانے کا انتظام کیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن جعفرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، جہاں ایک اونٹ بندھا ہوا تھا۔ اونٹ نے نے بلبلاتے ہوئے ایک کرب ناک آواز نکالی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے تو رسولِ خدا اس کے قریب تشریف لے گئے اور شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری آگے آیا اور بولا۔ ’’یہ میرا ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا، ’’اس بے زبان جانور کے بارے میں اللہ سے ڈر، جسے اللہ نے تیرے اختیار میں دے رکھا ہے، یہ اونٹ اپنے آنسوؤں اور اپنی آواز کے ذریعے مجھ سے تیری شکایت کر رہا ہے۔‘‘ حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ’’ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے ایک بلّی کو قید کر کے رکھا ہوا تھا، وہ اسے غذا دیتی اور نہ اس کو آزاد کرتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مر گئی۔‘‘(بخاری)

Comments

اہم ترین

مزید خبریں