The news is by your side.

Advertisement

کیا ڈپریشن سے بچاؤ کی دوا، کرونا کا خطرہ کم کرسکتی ہے؟ جانئے حقائق

عالمی وبا کرونا کے علاج سے متعلق ایک اور سنگ میل حاصل ہوا ہے ،جہاں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ انتظام ہونے والی ایک آزمائش میں عام دوا سے کرونا وائرس کی شدت کو کم کرنے کا تعلق دریافت ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے زیرِ انتظام برازیل میں ہونے والی آزمائشوں سے معلوم ہوا ہے کہ ڈپریشن کی عام اور کم خرچ دوا ’فلوووکسامائن‘ بھی کرونا وائرس کی شدت کم کرتی ہے۔

برازیل میں اس دوا کی آزمائشیں اقوامِ متحدہ کے ’ٹوگیدر‘ پروگرام کے تحت رواں سال 15 جنوری سے 6 اگست تک جاری رہیں، جن کی نگرانی عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا ایک پینل کررہا تھا۔

ریسرچ جرنل ’دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ‘ کے تازہ شمارے میں شائع رپورٹ کے مطابق ان آزمائشوں میں 1472 ایسے مریض بطور رضاکار شریک کیے گئے تھے جن میں کووِڈ نائنٹین کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہوچکی تھی۔ان میں سے 739 مریضوں کو دس روز تک روزانہ اصل فلوووکسامائن کی 100 ملی گرام والی دو گولیاں، جبکہ باقی 733 کو اسی ترتیب سے کوئی دوسری بے ضرر گولی (پلاسیبو) کھلائی گئی، دوا کے استعمال کے 28 دن بعد تک ہر مریض کو نگرانی میں رکھا گیا تاکہ بیماری کی شدت بڑھنے یا نہ بڑھنے پر نظر رکھی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس سے موت کا خطرہ بڑھانے والا جین دریافت

شائع رپورٹ کے مطابق جن مریضوں نے اصل فلوووکسامائن استعمال کی تھی، ان میں کووِڈ 19 کے باعث اسپتال میں داخل ہونے کی شرح 30 فیصد کم دیکھی گئی جبکہ وہ مریض جو فلوووکسامائن کے ساتھ ساتھ دوسری دوائیں بھی لے رہے تھے، ان میں یہ شرح 65 فیصد تک کم رہی۔

’دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ‘ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ 19 کے علاج میں فلوووکسامائن صرف ڈاکٹر کے مشورے پر ہی استعمال کی جائے۔

واضح رہے کہ ادویہ سے متعلق امریکی ادارے ’ایف ڈی اے‘ نے ڈپریشن کے علاج کےلیے 2007 میں فلوووکسامائن کی منظوری دی تھی جو مختلف تجارتی ناموں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عام دستیاب ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں