The news is by your side.

Advertisement

ہینڈ سینی ٹائزر سے ہاتھوں کے جلنے کی خبروں میں کتنی صداقت ہے؟

سوشل میڈیا پر کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لگائے جانے والے سینی ٹائزر کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ آگ پکڑ سکتے ہیں لہٰذا انہیں لگا کر چولہے کے پاس نہ جایا جائے۔

کچھ جھلسے ہوئے ہاتھوں کی ایسی تصاویر بھی شیئر کی گئیں جن میں کہا گیا کہ مذکورہ شخص سینی ٹائزر لگانے کے بعد چولہے کے پاس گیا جس سے اس کے ہاتھوں میں آگ لگ گئی۔

سعودی ویب سائٹ پر شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق سینی ٹائزر میں الکوحل کی تعداد اگر 50 سے 70 فیصد ہو تو بھی ایک فیصد ہی اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ یہ آگ پکڑ سکے۔

اسلام آباد میں ہیلتھ سروسس اکیڈمی کے ایسوسی ایٹڈ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد خان کے مطابق ہاتھ میں سینی ٹائزر لگانے کے بعد اس میں موجود الکوحل 20 سے 30 سیکنڈ بعد ہوا میں اڑ جاتا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے کہ کسی کو آگ لگے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سینی ٹائزر ہی چولہے کے پاس لگائے تو ممکن ہے کہ آگ لگ جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہر طرح کے سینی ٹائزر میں آئیسو پرو پائل الکوحل موجود ہوتا ہے جس کی مقدار کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

چیف فائر آفیسر ظفر اقبال کے مطابق انہوں نے آج تک ایسے کسی کیس کے بارے میں نہیں سنا نہ اس طرح کے کسی کیس کو ڈیل کیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں