The news is by your side.

کیا پاسپورٹ کی مدت 60 دن سے کم ہونے پر خروج نہائی لگ سکتا ہے؟

ایک غیر ملکی کارکن نے جوازات سے سوال کیا کہ پاسپورٹ کی مدت میں 23 دن باقی ہیں، خروج نہائی لگائے کیلیے ابشر کو درخواست دی مگر مسترد ہوگئی اب کیا کریں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جوازات کا کہنا تھا کہ خروج نہائی کےلیے لازمی ہے کہ پاسپورٹ کی کم از کم مدت 60 روز ہو، اس سے کم مدت ہونے کی صورت میں خروج نہائی نہیں لگایا جاسکتا۔ 60 روز سے کم مدت ہونے کی صورت میں ابشرسسٹم از خود درخواست کو مسترد کردیتا ہے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

واضح رہے خروج نہائی یعنی فائنل ایگزٹ لگانے کے بعد کارکن کو 60 روز کی مہلت دی جاتی ہے تاکہ اس عرصے میں اگر وہ چاہیں تو اپنے معاملات مکمل کرسکیں۔

جوازات کے ٹوئٹرپرایک شخص نے دریافت کیا ’کارکن چھٹی پر گیا ہے جہاں پاسپورٹ ایکسپائرہونے کے بعد تجدید کرایا گیا ہے کیا وہ نئے پاسپورٹ پرمملکت میں آسکتا ہے جبکہ خروج وعودہ کی مدت باقی ہے جو پرانے پاسپورٹ نمبرپرجاری ہوا تھا؟

اس پر جوازات کا کہنا تھا کہ’ غیر ملکی کارکن کے پاسپورٹ کی تجدید کے بعد کارکن کے کفیل اپنے ابشر اکاونٹ کے ذریعے کارکن کے پاسپورٹ کی نقل معلومات کراسکتے ہیں‘۔

کارکن کے کفیل کو چاہیے کہ وہ اپنے ابشر اکاونٹ کے ذریعے ’تواصل ‘ سروس کو استعمال کرتے ہوئے کارکن کے نئے پاسپورٹ کی معلومات جوازات کے سسٹم میں فیڈ کرادیں تاکہ کارکن کے واپس آنے کی صورت میں ہوائی اڈے پر اسے کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

واضح رہے پاسپورٹ کی نقل معلومات کرانا انتہائی ضروری امر ہے۔ پاسپورٹ بین الاقوامی سفری دستاویز ہوتی ہے جس کا کارآمد ہونا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔

سعودی محکمہ پاسپورٹ نے آن لائن سروسز میں کافی تبدیلیاں کی ہیں جس سے اقامہ اور خروج وعودہ کی مدت میں اضافہ کرنے اور دیگر معاملات کی انجام دہی میں کافی سہولت ہوئی ہے۔

جوازات کے قانون کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی معلومات اپ ڈیٹ رکھنے کےلیے بھی آن لائن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔

امیگریشن قوانین کے تحت اقامہ ہولڈرغیر ملکی افراد کے پاسپورٹ کی تجدید کے بعد نئے پاسپورٹ کی انٹری کرانا ضروری ہوتا ہے۔ نئے پاسپورٹ کی جوازات کے سسٹم میں انٹری کرانے کے عمل کوعربی میں ’نقل معلومات ‘ کہا جاتا ہے۔

آن لائن سسٹم سے نقل معلومات کرانے میں بھی کافی سہولت ہوئی ہے۔ اب پاسپورٹ تجدید کرانے کے بعد دوررہتے ہوئے بھی آن لائن طریقے سے’نقل معلومات ‘ کی جاسکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں