امریکا کے ٹیرف کے جواب میں کینیڈا نے امریکی گاڑیوں کی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ عالمی معیشت کو تباہ کردے گی۔
آئی ایم ایف نے بھی امریکا کے ٹیرف کوعالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا اور کہا کہ امریکا سست شرح نمو کے وقت عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرے۔
یورپی یونین نے امریکا کے ٹیرف کو عالمی معیشت کے لیے ’بڑا دھچکا‘ قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کی تیاری کا اعلان کردیا۔
رپورٹس کے مطابق فرانسیسی حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یورپ کے ساتھ مل کر امریکا کے ٹیرف کا جواب دیں گے۔
چین نے نئے ٹیرف کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ جاپانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا اقدام غیرمنصفانہ ہے۔
ادھر فرانس کے صدر ایموئل میکرون نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیرف کو ظالمانہ اقدام قرار دے دیا۔
اپنے ردعمل میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ٹیرف ظالمانہ اور بیبنیاد ہیں ٹرمپ کے فیصلیخود امریکی معیشت کے لیے قابل برداشت نہیں ہیں۔
میکرون نے کہا کہ یورپی یونین کی تجارتی مارکیٹ امریکا سے بڑی ہے ٹرمپ کے محصولات کے جواب میں یورپ کو متحد ہونا پڑے گا۔
امریکی صدر کے ٹیرف کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے تجارتی جنگ قرار دے دیا ہے، جس کے باعث نئی تجارتی چپقلش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یاد رہے صد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی درآمدات پر جوابی ٹیرف لگادیا ہے، پاکستان پر انتیس فیصد، بھارت پر چھبیس فیصد،برطانیہ پر دس، یورپی یونین پر بیس، چین پر چونتیس، جاپان پر چوبیس، اسرائیل پرسترہ، سعودی عرب، قطر اورافغانستان پر دس دس فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔
امریکی ٹیرف بین الاقوامی معیشت کیلئے بڑا خطرہ قرار
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے جو کاریں درآمد ہونگی ان کاروں پر اب 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات غیرضروری اور بلاجواز ہیں۔