ہفتہ, جون 22, 2024
اشتہار

کینیڈا میں تدفین کے اخراجات کی وجہ سے خاندان والے میتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

ٹورنٹو: کینیڈا میں تدفین کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے خاندان والے میتیں لاوارث چھوڑنے لگے ہیں۔

روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے کچھ صوبوں میں حالیہ برسوں میں لاوارث لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ آخری رسومات کے بڑھتے ہوئے اخراجات بتائی جا رہی ہے۔

کینیڈا میں انڈسٹری ٹریڈ گروپ کے تخمینے کے مطابق کینیڈا میں آخری رسومات کی مجموعی لاگت 8 ہزار 800 ڈالر ہو گئی ہے جو 1998 میں 6 ہزار ڈالر تھی، اونٹاریو کے حکام کے مطابق صوبے میں 2023 میں لاوارث لاشوں کی تعداد 1،183 ہو گئی ہے جو کہ 2013 میں صرف 242 تھی۔

- Advertisement -

افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر میتوں کے لواحقین کی شناخت بھی ہو گئی تاہم انھوں نے ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اور زیادہ تر کا کہنا تھا کہ وہ آخری رسومات کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

محکمہ تدفین کے مطابق صوبہ اونٹاریو میں 24 گھنٹوں میں ایک لاش کو سرکاری طور پر لاوارث قرار دیا جاتا ہے، یہ تکلیف دہ بات ہے کہ ایک شخص جو مر چکا ہے اس کے خاندان، دوست یا دیگر میں سے کوئی بھی نہیں جو اس کی آخری رسومات کی ذمہ داری لے سکے۔

رپورٹس کے مطابق مقامی میونسپلٹی اس طرح کی لاوارث میتوں کی آخری رسومات ادا کر دیتی ہے۔ لاوارث لاش کو سرد خانے میں رکھا جاتا ہے، میتیں بڑھنے کی وجہ سے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں