The news is by your side.

Advertisement

‘ویکسین لگائے بغیر عام زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں’

اوٹاوا: کینیڈا میں کرونا ویکسینیشن کو لازمی قرار دیے جانے کے خلاف کئی شہروں میں ہزاروں افراد کا احتجاج بدستور جاری ہے۔

روئٹرز کے مطابق ہفتے کو کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا بڑا احتجاج کیا گیا، جو تھا تو پر امن لیکن مظاہرین کی جانب سے ویکسینیشن کے خلاف خوب نعرے بازی کی گئی۔

’کانوائے فریڈم‘ نامی یہ تحریک بارڈر کے دونوں طرف ٹرک ڈرائیورز کے لیے ویکسین لازمی قرار دیے جانے کے خلاف شروع ہوئی تھی، تاہم بعد میں اس کا رخ صحت کے حوالے سے ہونے والے اقدامات اور وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کے خلاف ہو گیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ہم اس زہر، جسے یہ ویکیسن کہتے ہیں، کو اپنی نسوں میں اتارے بغیر عام زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔‘

مظاہرے میں شریک ایک شخص رابرٹ کا کہنا تھا کہ ہم سب ایسے حکم ناموں اور دھمکیوں سے تنگ آ گئے ہیں جس نے ہماری زندگی کو ایک بڑی جیل تک محدود کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مظاہرین نے گزشتہ 8 روز سے اوٹاوا کو بند رکھا ہے، جن میں سے کچھ نے نازی پرچم بھی اٹھا رکھے تھے، جب کہ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

احتجاج کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے لیے مظاہرین کے ساتھ ہمدردری رکھنے والے امریکیوں کی جانب سے فنڈنگ کی گئی ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر مظاہرین کی مختلف ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں، جن میں سے ایک شخص نے ٹرمپ کا جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔

سابق امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرک ڈرائیورز کے لیے ویکسینیشن لازمی قرار دیے جانے پر ٹروڈو حکومت پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ وزیر اعظم ٹروڈو نے کرونا کے حوالے سے عجیب اقدامات سے کینیڈا کو تباہ کر دیا ہے۔

پولیس کے مطابق تقریباً 5000 افراد نے اوٹاوا میں مظاہرہ کیا جب کہ سینکڑوں کی تعداد میں ٹورنٹو میں جمع ہوئے جو کینڈا کا سب سے بڑا شہر ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں