اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان نے کینال کے معاملے پر کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر موجودہ حکومت نہیں چل سکتی۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ کینال کے منصوبے کی بات گزشتہ سال ہوئی تھی اور صدر ہاؤس کی 8 جولائی 2024 کی پریس ریلیز موجود ہے، اخبار میں شائع ہوا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے ہدایت کی تھی کہ کینال منصوبے کیلیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ اُس وقت صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبائی اور وفاقی حکومت کو کینال منصوبے کیلیے ہدایت جاری کی تھی، کولیشن گورنمنٹ میں یہ نہیں ہو سکتا کہ پیپلز پارٹی کی بات کو نہ سنا جائے کیونکہ ان کے بغیر حکومت نہیں چل سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: کینالز کا معاملہ ہر فورم پر اٹھا رہے ہیں، پانی کا معاملہ ہمارا جینا مرنا ہے، بلاول بھٹو
انہوں نے مزید کہا کہ کینال سے متعلق سینیٹ اور کمیٹیوں میں بات ہو سکتی ہے، صوبوں اور وفاق کے حق میں جو کام نہیں ہوگا وہ نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی اگر کینال منصوبے کے خلاف ہے تو پھر معاملہ کہیں نہیں پہنچ پائے گا، منصوبہ پیپلز پارٹی کے ایگریمنٹ سے شروع ہوا تھا تاہم اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
چند روز وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کسی کینال کی منظوری نہیں دی، اس حوالے سے میٹنگ منٹس غلط جاری کیے گئے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کینالوں سے متعلق طاقتور لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوں، سب لوگوں کو بتا دیا کہ کینالوں کے مخالف رہیں گے، مجھے لگتا ہے طاقتور لوگوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں اور اس منصوبے پر جو تیزی سے کام ہونا تھا ہماری وجہ سے رک گیا ہے۔
30 مارچ 2025 کو سندھ حکومت نے متنازع کینال کے معاملے پر ایک اور خط لکھتے ہوئے سی سی آئی کا اجلاس فوری بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سندھ حکومت کی جانب سے لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سی سی آئی اجلاس میں چولستان کینالوں کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا معاملہ اٹھایا جائے گا، اجلاس میں ارسا کے غیر قانونی اقدام کو ختم کروایا جائے گا۔
خط میں لکھا گیا تھا کہ ارسا کی طرف سے پانی موجودگی کا سرٹیفکیٹ جھوٹ کا پلندہ ہے، ارسا کی طرف سے واٹر اکارڈ 1991 کے مطابق کبھی اپنے حصے کا پانی نہیں ملا، سی سی آئی اجلاس میں سرٹیفکیٹ کے اجرا کا معاملہ رکھا جائے۔