The news is by your side.

Advertisement

کینسر کا مریض سگریٹ نوش نوجوان کا مسیحا بن گیا

ابوظبی : کینسر کے موذی مرض میں مبتلا مریض نے سگریٹ نوشی کی عادت سے مجبور اماراتی شہری کی زندگی یکسر تبدیل کردی۔

تمباکو نوشی کا انجام اکثر پینے والی کی درد ناک موت کی صورت میں سامنے آتا ہے، اسی لیے بہتر ہے کہ اسے وقت سے پہلے ہی ترک کردیا جائے لیکن تمباکو نوشی کی عادت ترک کرنا بہت سے لوگوں کےلیے انتہائی مشکل کام ہوتا ہے اور سگریٹ ترک کرنے کےلیے کئی ڈاکٹروں سے بھی رابطہ کرتے ہیں۔

آج اپنے قارئین کو ایسے ہی ایک سگریٹ نوش شہری کی آب بیتی سنانے جارہے ہیں جس جس کی زندگی ایک کینسر مریض نے یکسر تبدیل کردی۔

متحدہ عرب امارات کا 39 سالہ خلیفہ حمید الظرمکی درالحکومت ابوظبی کا رہائشی ہے جو گزشتہ 20 برس سے سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہے، ایک روز مذکورہ نوجوان نے سینے میں تکلیف کے باعث ڈاکٹر سے رجوع کیا تو پتہ چلا کہ تکلیف کی وجہ تمباکو نوشی ہے۔

سینے تکلیف کے باوجود نوجوان نے سگریٹ نوشی ترک نہ کی اور یہ سوچ کر ورزش اور صحت مند غذا کو معمول بنالیا کہ ورزش سے سگریٹ کے مضر اثرات سے محفوظ رہے گا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔

ایک روز خلیفہ حمید الظرمکی نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کےلیے پھر ڈاکٹر سے رجوع کیا، کلینک میں بیٹھے ہوئے نوجوان کی ملاقات ایسے بزرگ سے ہوئی جو گلے کے کینسر میں مبتلا تھے اور کسی روبوٹ کی طرح بات کررہے تھے۔

بزرگ کی حالت دیکھ کر اماراتی شہری نے ڈاکٹر سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ مذکورہ شخص کینسر کے باعث گلے کے وولکل کارڈز خراب ہوچکے ہیں اور سرجری کرکے گلے کا وائس باکس بھی نکالا جاچکا ہے اب انہیں بات کرنے کےلیے ایک مصنوعی آلے کی ضرورت پڑتی ہے۔

گلے کے وائس باکس سے محرومی اور کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود بزرگ شہری تمباکو نوشی ترک کرنے میں ناکام رہے۔

بزرگ کی حالت دیکھ کر نوجوان کو سگریٹ نوشی سے چھٹکارا حاصل کرنے کا عزم ملا اور اس نے مسلسل تین ماہ کی محنت سے تمباکو نوشی چھوڑ دی۔

پہلے مہینے نوجوان کا جب سگریٹ نوشی کا دل تو وہ ایک سگریٹ نکال کر کوڑے دان میں پھینک دیتا اور ورزش اور صحت مند غذاؤں کو اپنا معمول بنالیا۔

نوجوان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی کے بعد سے ورزش کا بھی لطف آتا ہے اور کھانے کی غذایت بھی محسوس ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے بعد سے تین سال سے وہ بالکل معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں