The news is by your side.

نئی گاڑی خریدنے والوں کے لئے اہم خبر آگئی

اسلام آباد : پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کار ساز کمپنیوں کو 100 فیصد ایڈوانس ادا کرنیوالے کسٹمرز کو ایک ماہ میں گاڑی ڈیلیور کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نورعالم خان کی زیرصدارت پی اے سی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں ملک میں گاڑیوں کی تیاری میں مشکلات اورصارفین کے مسائل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں کار ساز کمپنیوں کیجانب سے کسٹمرز سے 217 ارب روپے ایڈوانس وصولی کا انکشاف ہوا۔

سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا کہ کار مینوفیکچرر کمپنیوں نے کسٹمرز سے 20 فیصد سے 100 فیصد تک ایڈوانس پیسے لیے۔

وزارت صنعت وپیداوار کا کہنا تھا کہ کسی کار ساز کمپنی کا مینوفیکچرنگ پلانٹ 100 فیصد صلاحیت پر نہیں چل رہا، گاڑیوں کی بکنگ پر 60 دنوں میں ڈیلیوری ضروری ہے۔

سیکرٹری نے کہا کہ کوئی کمپنی 60 دنوں میں ڈیلیوری نہ کرے تو کسٹمرز کو کائبر پلس 3 فیصد ادا کیا جائے گا، گزشتہ 2 برسوں میں کارساز کمپنیاں 1.9 ارب روپے کسٹمرز کو ادا کرچکی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ کارساز کمپنیاں فل پیمنٹ وصول کر کے بھی 4 لاکھ روپے کا مزید مطالبہ کرتی ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کارمینوفیکچرر کا نام تبدیل کر کے کار اسمبلرز رکھنے اور کار ساز کمپنیز کو 100 فیصد ایڈوانس ادا کرنیوالے کسٹمرز کو ایک ماہ میں گاڑی ڈیلیور کرنے کی ہدایت کردی۔

پی اےسی نے کہا کہ کارسازکمپنیاں بکنگ کیلئے 20 فیصد سے زائد کی ایڈوانس رقم نہیں لیں گی، 20 فیصد ایڈوانس پر گاڑی 60 روز میں ڈیلیور نہ کی تو 30 دن بعد کائبر 3 فیصد ادا کرنا ہو گا۔

سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ گاڑیوں کی طلب ساڑھے 3 لاکھ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں