The news is by your side.

Advertisement

چینی اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات، شہباز فیملی اور جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات درج

لاہور: ایف آئی اے میں چینی بحران اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف آئی اے نے چینی بحران اور منی لانڈرنگ کے لیے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے۔

ملزمان کے خلاف چینی اسکینڈل سمیت منی لانڈرنگ کی تحقیقات چل رہی تھیں، جہانگیر ترین اور علی ترین کے خلاف 406، 109، 420 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے، جب کہ شہباز شریف، حمزہ اور سلمان کے خلاف دھوکا دہی، فراڈ سمیت دیگر دفعات کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

مقدمے کے مطابق جے ڈی ڈبلیو کے اکاؤنٹ سے 1.2 بلین روپے کمپنی جے کے ایف ایس ایل منتقل ہوئے، یہ کمپنی جہانگیر ترین کے بچوں کی ملکیت ہے، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے سالانہ گوشواروں میں غلط اعداد و شمار دیے، جے ڈی ڈبلیو نے جے کے ایس ایف ایل کو 4.35 ارب میں خریدا تھا۔

دستاویز کے مطابق اس ڈیل سے متعلق بوگس رپورٹ جمع کرائی گئی تھی، جے کے ایس ایف ایل نے وضاحت کی کہ اسے دوسرا خریدار نہیں ملا، جب کہ جے ڈی ڈبلیو نے دھوکا دہی کر کے پبلک شیئر ہولڈرز کے پیسوں سے ڈیل خریدی، جہانگیر ترین اور علی ترین نے منصوبہ بندی سے دھوکا دہی کی۔

دستاویز کے مطابق جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو اور علی ترین جے کے ایس ایف ایل کے سی ای او تھے، اثاثوں کی خریداری کا معاملہ ایک ہی دن میں طے کر لیا گیا تھا، جہانگیر ترین مجرمانہ خیانت اور دھوکا دہی کے مرتکب ہوئے۔

دوسری طرف ایف آئی اے کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ شریف گروپ کی جعلی کمپنیز کے کھاتوں میں 25 ارب جمع کرائے گئے، یہ رقم 2008 سے 2018 کے دوران جمع کرائی گئی، ٹرانزیکشنز رمضان اور العریبیہ شوگرملز کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھی ہوئی، ملازمین نے اعتراف کیا کہ اکاؤنٹس سلیمان شہباز کی خفیہ ٹرانزیکشنز کے لیے کھولے گئے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق مشتاق چینی والا نے بطور ثبوت چینی کی فروخت کے خفیہ بہی کھاتے فراہم کیے، ان کھاتوں میں رقوم ان افراد نے بھی جمع کرائی جن کا چینی کاروبار سے تعلق نہیں تھا، رقم جمع کرانے والوں میں سیاست دان، سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔

ایک سیاست دان کے مطابق اس نے شہباز شریف کو پارٹی ٹکٹ کے لیے 14 ملین کے چیک دیے، چیکس رمضان شوگر ملز کے چپراسی گلزار کے اکاؤنٹ میں کیسے گئے یہ نہیں معلوم۔

Comments

یہ بھی پڑھیں