The news is by your side.

Advertisement

حلیم عادل کے کمرے سے سانپ نکلنے کا معاملہ، ڈی ایس پی کا اہم بیان قلمبند

کراچی : ’اندر پہنچا تو خون آلود ڈنڈا اور سانپ مرا پڑا تھا‘ ڈی ایس پی شاہنواز نےتحقیقاتی کمیٹی کو حلیم عادل شیخ کے کمرے سے سانپ نکلنے کی حقیقت بتادی، ڈی ایس پی سمیت تین اہلکار  معاملے کے گواہ نکلے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ کے جیل کے کمرے سے سانپ نکلنے کے معاملے پر تحقیقات کمیٹی کے دو افسران ایس آئی یو پہنچ گئے، ایس ایس پی فیصل عبداللہ چاچڑ اور ایس ایس پی سرفراز کمیٹی میں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے ایس آئی یو میں 25 سے زائد ملازمین سے مرحلہ وار پوچھ گچھ کی اور ایس ایس پی ایس آئی یو سے بھی سوال جواب کیے گئے۔

ذرائع نے کہا کہ ڈی ایس پی شاہنواز سمیت تین اہلکار معاملے کے گواہ نکلے، ڈی ایس پی شاہنواز نے بتایا کہ برتن ٹوٹنے اور شور کی آواز آئی تو اندر بھاگا، اندر پہنچا تو دیکھا حلیم عادل باہر بھاگتا ہوا آرہا تھا۔

ڈی ایس پی نے بتایا کہ حلیم شیخ نے کہہ رہا تھا کہ میں نے سانپ مار دیا، اندر جاکر دیکھا تو خون آلود ڈنڈا اور سانپ مرا ہوا تھا۔

ڈی ایس پی شاہنواز اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل کے کمرے میں صرف ایک بیڈ، ایک ٹیبل کرسی اور الماری تھی، حلیم عادل کمرے سے نکل کر باتھ روم جارہے تھے کہ بیچ میں واقعہ پیش آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آٹھ سے 10 افراد نے حلیم عادل شیخ سے ملاقات کی تھی، دعا بھٹو بھی ملاقات کرنے والے افراد میں شامل تھیں۔

دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ملاقات کرنے والے تمام افراد کو بھی بیان کےلیے طلب کیا گیا ہے، ملاقات کرنے والے کھانا بھی لے کر آتے تھے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے افسران ایس ایس پی فیصل عبداللہ چاچڑ اور ایس ایس پی سرفراز آج تیسرے اجلاس میں رپورٹ ڈی آئی جی سی آئی اے کو جمع کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : حلیم عادل شیخ اکیلے سانپ مار رہے تھے، کسی کو مدد کے لیے نہیں بلایا، پولیس رپورٹ

واضح رہے کہ19 فروری کی صبح حلیم عادل شیخ کو جب عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا تو انہوں نے اپنے کمرے سے سانپ برآمد ہونے کا دعویٰ کیا، انہوں نے اس معاملے سے جج کو بھی آگاہ کیا تھا جس پر معزز جج نے پولیس افسر کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں