The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: داعش سے روابط اور دہشت گردی کا الزام، 45 افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت

ریاض: سعودی عرب میں داعش سے روابط اور ملک میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار 45 افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک خصوصی فوجداری عدالت میں 45 افراد پر مشتمل گروہ کے خلاف مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ان افراد پر داعش کی حمایت اور ملک میں مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بھی الزامات ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز پر حملے بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار ملزمان نجران میں مسجد المشہد اور الاحساء میں واقع مسجد الرضا میں بم دھماکے کیے تھے۔ اس کے علاوہ عرعر میں سکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا، یورپ سمیت سعودی عرب کو بھی داعش سے خطرات ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ شام میں فوجی اتحاد نے شدت پسندوں کو شکست دے دی ہے۔

سعودی عرب: سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ، ذمہ داری داعش نے قبول کرلی

گزشتہ سال اگست میں سعودی عرب نے داعش تنظیم کے خلاف برسرپیکار اتحاد کے لیے 10 کروڑ ڈالر عطیہ کیے تھے تاکہ شمال مشرق میں داعش سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں اس دہشت گرد تنظیم کی منصوبہ بندی پر پابندی لگائی جاسکے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں سعودی عرب کے ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملے میں دو افراد مارے گئے تھے جس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں