دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض‌ اتارنا جانتے ہیں، جنرل راحیل -
The news is by your side.

Advertisement

دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض‌ اتارنا جانتے ہیں، جنرل راحیل

راولپنڈی:آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ چھ ستمبر کے معرکے میں پاک فوج اور فضائیہ کی بدولت یہ دن ملکی تاریخ کا تابناک ترین دن ہے، ملک دشمنوں پر واضح کرتا ہوں کہ یہ وطن پہلے مضبوط تھا اب ناقابل تسخیر ہوچکا ہے۔

 یہ بات انہوں نے جنرل ہیڈ کوارٹر(جی ایچ کیو) میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں ملک بھر کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب تھی۔


Army Chief says Sept 1965 is such a chapter of… by arynews

ضرب عضب میں فوجی جوانوں نے کامیابی سے مقابلہ کیا

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب میں فوجی جوانوں نے کامیابی کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کیا، کافی عرصے سے ملک غیر روایتی جنگ سے دو چار ہے جس میں فوجی جوانوں  نے قربانیاں دیں، دہشت گردی سے دنیا کے کئی ممالک انتشار کا شکار ہیں اور پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے جو  دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے ۔

آپریشن سے قبل کئی علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی تھی

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل دہشت گردی کے واقعات روز ہوتے تھے،  دفاعی تنصیات سمیت کئی سرکاری  جگہیں حملوں کا نشانہ بن رہی تھیں، ملک میں عملی طور پر کئی علاقوں میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی تھی، شمالی وزیرستان دہشت گردی کا بڑا شکار تھا لیکن اس وقت بھی ہمیں اپنی کامیابی کا یقین تھا اور اسی یقین کی بنیاد پر آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

ضرب عضب کا نام رسول اکرمﷺ کی تلوار سے منسوب ہے

آرمی چیف نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کا نام نبی آخری الزماں رسول اکرمﷺ کی تلوار سے اس لیے منسوب کیا تاکہ ہمارا ہر قدم اللہ کے حکم اورسیرت نبویﷺ کے عین مطابق اٹھے، یہ تلوار فساد فی الارض کے لیے ہے۔

ملک کا کوئی علاقہ سبز ہلالی پرچم کے سائے سے محروم نہیں

انہوں نے آگاہ کیا کہ ہم نے اپنی سرزمین پر جو آپریشن کئی برس قبل شروع کیا اس کے اہداف حاصل ہوگئے ہیں، اب ملک کا کوئی علاقہ سبز ہلالی پرچم کے سائے سے محروم نہیں، اب تک 19 ہزار آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، فوج کے ساتھ رینجرز، ایف سی، لیویز اور خفیہ اداروں کا بھی اہم کردار شامل ہے۔

دہشت گردی کی جنگ میں 18ہزار جوانوں نے جانیں دیں

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے، بالخصوص فضائیہ پاک فوج کے شانہ بشانہ رہی،  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریبا 18 ہزار سے زائد افسران و جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، شہیدوں کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

آپریشن کے متاثرین کی واپسی کا عمل جلد شروع ہوگا

جنرل راحیل نے کہا کہ یہ جنگ ہمارے لیے وطن کی بقا کی جنگ ہے ہم اس جنگ میں کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے،ہمارے غیور قبائل نے امن کی خاطر گھر بار چھوڑا، پاک فوج ان کے روشن مستقبل کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے کام کررہی ہے، عنقریب متاثرین (آئی ڈی پیز)کی واپسی کا عمل شروع ہوجائے گا۔

نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ناگزیر ہے

ان کا کہنا تھا کہ اب مشکلات کا حل نظر آنے لگا ہے تاہم امن کو لاحق خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، مستقل امن کے لیے ناگزیر ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے جس کے لیے علما، دانشور اور میڈیا کو اسلام کے پرامن و ہمہ گیر پیغام کو پھیلانا ہوگا تاکہ دہشت گردی جڑ سے ختم ہو۔

ملکی قوانی اور نظام انصاف میں کمزوریاں ہیں، اصلاحات لانی ہوں گی

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملکی قوانین اور نظام انصاف میں کمزوریاں موجود ہیں انہیں دور کرنا ضروری ہے ، نظام میں اصلاحات لائی جائیں، آپریشن کے  لیے تمام شراکت داروں اور ریاست کے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایسے وقت میں بھی کچھ لوگ بداعتمادی کی فضا پیدا کررہےہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور فوج جوان ملکی کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں،ایسے وقت میں بھی آ کچھ لوگ قوم میں بداعتمادی کی فضا پیدا  کرنے میں لگے ہوئے ہیں،  ایسی تمام باتوں، شکوک اور  الزامات کے باوجود ہمارا حوصلہ بلند ہے۔

پاک افغان  سرحد پر موثر بارڈر مینجمنٹ سسٹم ناگزیر ہے

پڑوسی ملک افغانستان کی صورتحال پر ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن کچھ مفاد پرست لوگ اس راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، واضح کرتاہوں کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے، وہاں پائیدار امن کا قیام چاہتے ہیں جو کہ ہمارے لیے بھی سود مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا بہترین اور موثر نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ امن قائم ہو اور دونوں ملکوں کو اقتصادی طور پر بھی ترقی ملے۔

پڑوسی ممالک سے پرامن تعلقات چاہتے ہیں

آرمی چیف نے کہا کہ تمام بیرونی سازشوں اور اشتعال انگیزیوں کے باوجود اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔

کشمیر کا حل گولیوں کی بارش میں نہیں، اقوام متحدہ کی قرارداد میں ہے

مقبوضہ کشمیر  میں بھارتی جارحیت پر انہوں نے کہاکہ آزادی کی جدوجہد میں مقبوضہ کشمیر کے  عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، یہ مظلوم اپنا حق مانگنے کی پاداش میں ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، اس جدوجہد کا حل گولیوں کی بارش میں نہیں  عوام کی بات سننے اور امنگوں کے احترام میں ہے، مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار داد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے، حمایت جاری رکھیں گے

انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، ہم ہر سطح پر کشمیر کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی

آرمی چیف نے میں واضح کیا کہ وہ دشمنوں کی سازش اور اقدامات سے آگاہ ہیں، چیلنج عسکری ہو یاسفارتی، خطرہ ملک میں ہو سرحد پر، دشمنوں کے عزائم پہچانتے، دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی۔

سی پیک پر دشمنوں کو رخنہ ڈالنے نہیں دیں گے

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کا عظیم منصوبہ اقتصادی روابط کو مضبوط کرے گا جس کی بروقت تکمیل ہمارا قومی فریضہ ہے، بیرونی طاقت کو سی پیک کی طاقت کو رخنہ ڈالنے نہیں دیں گے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔

جیت سکتے ہیں تو جیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں

جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ فوج کے جوان ماضی کے ہیروز کی روایات کے امین ہیں، ہمارے نوجوان پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید اور ضامن ہیں، قوم کی طرف سے امن کے دشمنو ں کو باور کراتا ہوں کہ ہم جیت سکتے ہیں تو جیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں۔

تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، تینوں سروسز چیفس، وفاقی وزرا، غیرملکی سفیر، اعلیٰ سول و فوجی حکام، سابق فوجی سربراہان، مختلف ممالک کے سفیر، شہدا کے لواحقین سمیت خواجہ آصف، پرویز رشید، خورشید شاہ، راجہ ظفر الحق، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ اور دیگر نے شرکت کی۔

خطاب سے قبل پاک فوج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی اور پریڈ کی، گلوکاروں علی ظفر اور عاطف اسلم نے یوم دفاع کی مناسبت سےگیت پیش کیا جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں