The news is by your side.

Advertisement

چیئرمین نیب نے بدعنوانی کے 3 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد : چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بدعنوانی کے 3 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی اور کہا بد عنوانی ایک ناسور ہے جو ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ، بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں پراسیکیوٹر جنرل، آپریشنز اور پراسیکیوشن حکام بھی شریک ہوئے۔

نیب ایگزیکٹوبورڈ نے بدعنوانی کے 3 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی ، جس میں خواجہ انورمجید و دیگر افراد شامل ہیں ، ملزمان پر مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کاالزام ہے ، ملزمان نے قومی خزانے کو مبینہ طور پر تقریباً 34 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔

اجلاس میں عارف خان ڈائریکٹرشراکت دار میسرز کینال ویو کے خلاف اور سابق چیئرمین بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی سعادت انور کیخلاف ریفرنس کی منظوری دی، عارف خان سمیت ملزمان نے قومی خزانے کو 266 ملین روپے کا نقصان پہنچایا جبکہ سعادت انور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

نصار احمد افضل، صغیر احمد افضل اور دیگر کے خلاف تفتیش کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا بدعنوانی ایک ناسور ہے جو ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، بائیس ماہ میں لوٹی گئی 71 ارب کی رقم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کے لیے کوشاں ہیں، احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر سختی سے عمل کررہے ہیں، کرپشن شکایات، انکوائریز، انوسٹی گیشنز کو مقررہ وقت کے اندر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

یاد رہے چند روز قبل قومی ادارہ احتساب (نیب) کے چیئرمین جاوید اقبال نے تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب میں کہا تھا کہ منی لانڈرنگ جرم ہے، سپریم کورٹ نے کئی کیسز ہمارے حوالے کیے، ٹیکس سے بچنا اور منی لانڈرنگ الگ الگ ہیں۔

مزید پڑھیں : میری منظوری کے بغیر کوئی پلی بارگین نہیں ہوسکتی: چیئرمین نیب

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ٹیکس معاملات کے تمام کیسز ایف بی آر کو بھیجیں گے، ٹیکس معاملات کا کوئی کیس نیب نہیں دیکھے گا۔ بینک ڈیفالٹ کا نیب نے کبھی براہ راست کیس نہیں دیکھا۔ بینک نادہندہ سے متعلق بھی کبھی نیب نے براہ راست مداخلت نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ نیب اپنے دائرہ کار سے نکل کر کوئی کام نہیں کرتا، قومی احتساب بیورو عوام دوست ادارہ ہے۔ نادہندہ سے متعلق بینک درخواست کرے تو دیکھتے ہیں۔ کسی کو سزا اور جزا دینا عدالتوں کا کام ہے۔ اقبال زیڈ احمد کا معاملہ علم میں ہے ایک ایک چیز جانتا ہوں۔ اقبال زیڈ احمد کی خدمات کے بارے میں بھی علم ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ پاناما کے دیگر کیسز بھی چل رہے ہیں، پاناما میں دیگر ممالک شامل ہیں جواب جلدی آتا ہے تو کیس آگے بڑھتا ہے۔ یہ بات 100 فیصد غلط ہے کہ نیب میں حکومت مداخلت کر رہی ہے۔ عدلیہ میں 35 سالہ دیانتداری اور ایمانداری کا تجربہ داؤ پر نہیں لگاؤں گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں