The news is by your side.

Advertisement

’’سفارش اور دھمکی نیب کے دروازے کے باہر ہی ختم ہوجاتی ہے‘‘

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ماضی میں جن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں جاسکتا تھا ان سے ریکوریاں کیں، سفارش اور دھمکی نیب کے دروازے کے باہر ہی ختم ہوجاتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ وائٹ کالر کرائم مقدمات میں ملزمان کا 90 روزہ ریمانڈ اکٹھا نہیں دیا جاتا، شواہد کی فراہمی پر ہی ریمانڈ دیا جاتا ہے، عدالت کو مطمئن کرنا پڑتا ہے بادی النظر میں کیس ثابت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں ںے کہا کہ نیب کے معاملات میں حقائق سے مکمل آگاہی ضروری ہے، نیب کے معاملات میں قانون کا علم ہونا ضروری ہے، نیب پر صرف تنقید کرنا مناسب نہیں۔

جاوید اقبال نے کہا کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں وہ ملک و قوم کی بے لوث خدمت کا راستہ ہے، دو سال کے قلیل ترین عرصے میں ڈھائی ارب روپے واپس لوٹائے گئے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک میں کسی تاجر کو نیب کی وجہ سے کوئی مشکل درپیش نہیں، اگر بزنس کمیونٹی کو مشکلات ہوتیں تو پی ایس ایکس ترقی نہیں کررہی ہوتی۔

انہوں ںے کہا کہ نیب کی کسٹڈی اور جوڈیشل کسٹڈی کے فرق کو سمجھا جائے، اگرچہ موت کا وقت متعین ہے اور طبعی موت کہیں بھی آسکتی ہے لیکن نیب کی حراست میں مبینہ اموات کا پروپیگنڈا بھی کیا جاتا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں