نیب نے کسی کی عزت نفس کے ساتھ نہیں کھیلا: چیئرمین نیب -
The news is by your side.

Advertisement

نیب نے کسی کی عزت نفس کے ساتھ نہیں کھیلا: چیئرمین نیب

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جن کے پاس موٹر سائیکل تھی ان کے پاس دبئی میں ٹاور کیسے آئے؟ نیب نے سوال پوچھا تو بتائیں نیب نے کہاں گستاخی کی۔ نیب نے کسی کی عزت نفس کے ساتھ نہیں کھیلا۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے کسی قدم سے تاجروں کو پریشانی نہیں ہوگی، تاجر برادری خوشحال ہوگی تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نیب میں 39 ہزار 728 شکایات درج ہیں۔ نیب نے297 بلین کی ریکوری کی ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ جن کے پاس موٹر سائیکل تھی ان کے پاس دبئی میں ٹاور کیسے آئے؟ نیب نے سوال پوچھا یہ ٹاور کیسے بنائے تو بتائیں نیب نے کہاں گستاخی کی، ’نیب نے مودبانہ سوال پوچھا، نیب نے کسی کی عزت نفس کے ساتھ نہیں کھیلا‘۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ہمارا ہر تاجر جو ملکی مفاد کے لیے اور دیانت دارانہ کام کر رہا ہے اس کا ساتھ دیں گے۔ دیانت دار شخص کی عزت نفس کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ’کچھ لوگوں کے خلاف ضروری ایکشن لیا ہے، ایکشن لینے کی وجہ یہ تھی ان لوگوں نے غریبوں سے ان کا نوالہ چھینا۔

انہوں نے کہا کہ جو کرپٹ ہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جائے نیب پیچھا کرے گی، غلطی نظر انداز ہوسکتی ہے جرم نہیں۔ کرپٹ لوگوں کا پیچھا جاری رہے گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ بے شک بڑی سفارش لگوالیں کرپٹ عناصر کو نہیں چھوڑیں گے، تاجروں کو نیب نے ہراساں کیا ہے تو اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ ’احتساب کے لیے خود کو بھی عوام کے سامنے پیش کرتا ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ آج تک کسی فیس کو نہیں صرف کیس کو دیکھا ہے۔ ہمارے تمام مفادات اور تعلق صرف پاکستان اور عوام سے ہے۔ جو پیسہ باہر گیا ہے وہ واپس لانا ہے۔ تاجر برادری کے سامنے تنکے کی رکاوٹ کو نیب پلکوں سے اٹھائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ بلڈر سوچتے تھے مجھے خرید لیں گے، میں کوئی عمارت تو نہیں۔ منی لانڈرنگ کریں تو نیب اپنا کام ضرور کرے گا۔

تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ پاناما پر تیزی سے کام آگے بڑھا، تاخیر کا تاثر درست نہیں۔ وزیر اعظم سے ملاقات پر اعتراض بلا جواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کا انتظامی کنٹرول وزارت داخلہ کے پاس ہے، نیب کے بجٹ میں 12 ارب کی کٹوتی کر دی گئی تھی۔ نیب کے بجٹ کی بحالی ضروری تھی۔ کٹوتی کی وجہ سے نیب ملازمین کی تنخواہیں اور الاؤنسز متاثر ہوئے۔

چیئرمین نے کہا کہ وزیر اعظم سے نہ ملتا تو نیب کے مالی مسائل کیسے حل ہوتے۔ دیانت داری اور غیر جانبداری کانچ کی گڑیا نہیں، ایسا نہیں وزیر اعظم سے ملوں اور کانچ کی گڑیا کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں