The news is by your side.

Advertisement

’’ڈھیلے کی نہیں ، اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی‘‘

اسلام آباد: چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈھیلے کی نہیں بلکہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سہولیات کی زبوں حالی کی وجہ اربوں کی منی لانڈرنگ ہے، مضاربہ کیس میں اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو لوٹا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیب قیام سے اب تک714 ارب روپے قومی خزانےمیں جمع کراچکی ہے،ملک سے اربوں کی منی لانڈرنگ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ فالودہ، چھابڑی والے کے نام پر اربوں کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

جاوید اقبال نے کہا کہ نیب وائٹ کالرکرائمزکی تحقیقات کرتا ہے، دوران تحقیقات شواہد اکٹھے کرنےکے لیے وقت درکار ہوتا ہے، آٹاچینی اسکینڈل کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

نیب نے بدعنوان عناصر سے کتنی ریکوری کی؟ چیئرمین نیب نے بتادیا

واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کروڑوں، اربوں کی کرپشن کے خلاف قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کے تقریباً 943 ارب روپے لوٹے گئے ہیں، منی لانڈرنگ، بدعنوانی کے دیگر کیسز کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں، اشتہاری، مفروروں کی گرفتاری کے لیے وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نیا نظام وضع کیا ہے، ٹیم 2 انویسٹی گیشن افسران، لیگل کنسلٹنٹ، مالیاتی ماہر پر مشتمل ہوتی ہے، فرانزک لیبارٹری کے قیام سے انکوائری، انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری آئی ہے، ڈیجیٹل فرانزک، سوالیہ دستاویز، فنگر پرنٹ کے تجزیہ کی سہولت موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں