site
stats
پاکستان

ان کیمرہ اجلاس کا احوال میڈیا پر بیان کرنے والے اراکین کا معاملہ کمیٹی کے سپرد

اسلام آباد : چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ ان کیمرہ اجلاس کی باتیں باہرجانے سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے اور فاضل ممبران نے ایوان کے تقدس کو پامال کیا ہے جس پر کارروائی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق ان کیمرہ اجلاس میں ہونے والی باتیں پبلک ہونے پرچیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ارکانِ پارلیمنٹ سے باز پرس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ چند ارکان نے ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کی باتیں افشاء کردیں جو کہ پارلیمان کے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔


 آرمی چیف کی سینیٹ کو بریفنگ، کب کیا ہوا ؟ لمحہ بہ لمحہ رپورٹ


انہوں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ رول 225 کے مطابق ان کیمرہ بریفنگ کی تفصیلات کی تشہیرکرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے جس میں قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی رہنما شامل ہوں گے کمیٹی جانچ کرکےآئندہ ان کیمرہ اجلاس کی حکمت عملی تیارکریگی اور جو ان کیمرہ سیشن سےمتعلق ارکان سینیٹ پرقدغن لگائیں گے۔

رضا ربانی نے کہا کہ بات باہرجانی ہےتوان کیمرہ کافائدہ نہیں چند ارکان خاص کر ایک رکن نے تمام باتیں پبلک کر دی ہیں، ایسا رویہ رکھنے پر آئندہ کون سا ادارہ یا شخص ان کیمرہ بریفنگ دینے پر تیار ہوگا۔


 پاک فوج کی قومی سلامتی کے امور پر سینیٹ ارکان کو بریفنگ


چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ میڈیا اپنا کام کرنے اور خبر دینے میں آزاد ہے اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تا ہم پارلیمانی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف تادیبی کارروائی ہو گی۔

دریں اثناء چیئرمین رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اظہار خیال کیا اور ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کے جوابات بھی دیتے ہوئے بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سفارشات پرعمل شروع ہوگیا ہے اور یہ بات صوبوں کے علم میں لائی جا چکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں‌ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ کو مزید بتایا کہ چاروں صوبوں میں‌ گیس کے مسائل ہیں جس کے لیے ایل این جی کے معاملے پر صوبائی وزرائے اعلیٰ سے 3 ملاقاتیں ہوئیں جب کہ سوئی ناردن گیس حکام کے ساتھ بھی ایک ملاقات ہوئی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سوئی ناردرن ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے جس پر مشترکہ مفادات کی کونسل کے قوانین لاگو نہیں ہوتے تاہم ہر صوبے میں ایک ڈی جی پی مقرر کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے اس کے علاوہ پورے پاکستان میں ایک ریگولیٹر مقرر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ تمام معاملات مشترکہ مفادات کی کونسل میں موجود ہیں لیکن اس پر صوبے متفق نہیں ہو سکے ہیں تاہم معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے جلد حتمی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سینیٹ آمد اور متعلقہ سوالات کے جوابات دینے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی سینیٹ کارروائی میں حصہ لینے سے جمہوریت مضبوط ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top