پاکستان کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ میچز ہارنے کا مطلب یہ نہیں کہ پوری ٹیم تبدیل کر کے انڈر 19 کو لے آئیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی بدترین کارکردگی کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے ٹیم اور ناکام کھلاڑیوں کے دفاع میں سامنے آ گئے اور کہا کہ بابر اعظم کا کوئی متبادل ہے تو بتائیں۔ چیمپئنز ٹرافی میں میچز ہارنے کا مطلب یہ نہیں کہ پوری ٹیم تبدیل کر کے انڈر 19 کی ٹیم لے آئیں۔
ہیڈ کوچ نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کی سلیکشن درست تھی۔ چیمپئنز ٹرافی کیلیے اس سے بہتر ٹیم نہیں بنا سکتےتھے۔ آسٹریلیا میں اسی ٹیم نے تاریخ بنائی تھی۔ بھارت سے نہ ہارتے تو اتنا واویلانہ ہوتا۔ شکست کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔
عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ٹیم توقعات کے مطابق نہیں کھیلتی تو فینز سے زیادہ دکھ اور مایوسی کھلاڑیوں کو ہوتی ہے اور کھلاڑی اس ہار پر افسردہ ہیں۔ ہارنے کے بعد کوئی مطمئن نہیں ہوسکتا لیکن کوئی بہانہ بھی نہیں۔
ہیڈ کوچ نے کہا کہ ٹیم میں صائم اور فخر جیسے کھلاڑیوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ان کے باہر ہونے سے فرق پڑا۔ بھارت کے خلاف 280 یا 300 رنز کرتے تو میچ اچھا ہوتا تاہم کوئی بہانہ نہیں کروں گا۔ ٹیم سے اچھا پرفارم کرنے کی امیدیں تھیں جو پوری نہ ہو سکیں۔
انہوں نے کہاکہ دو چار میچز کھیل کر کارکردگی نہ دکھانے والے ناکام رہے ہیں۔ کچھ ایسے کھلاڑی ہوتے ہیں جو گیم کو بدل دیتے ہیں۔ سب کو اپنی رائے دینے کی آزادی ہے لیکن شاہین، نسیم شاہ اور حارث رؤف ہمارا مستقبل ہیں۔
عاقب جاوید نے ان افواہوں کی بھی تردید کی کہ بھارت سے میچ ہارنے کے بعد انہوں نے کیس کو ڈانٹا۔ ان کا کہنا تھا میں تمام کھلاڑیوں کی عزت کرتا ہوں اور کسی بھی کھلاڑی کو نہیں ڈانٹا۔
واضح رہے کہ دفاعی چیمپئن اور میزبان ملک پاکستان چیمپئنز ٹرافی میں نیوزی لینڈ اور بھارت سے میچز ہارنے کے بعد میگا ایونٹ سے باہر ہوچکا ہے۔
پاکستان میگا ایونٹ کا آخری میچ کل پنڈی میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گا۔
چیمپئنز ٹرافی: ’’لاپروائی یا لا علمی‘‘ پاکستان ٹیم کوہلی کے آؤٹ ہونے پر بے خبر رہی؟