وفاقی حکومت کا قومی ایکشن پلان میں تبدیلی کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

وفاقی حکومت کا قومی ایکشن پلان میں تبدیلی کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے قومی ایکشن پلان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) میں مشاورت جاری ہے، اصلاحات کی جلد منظوری دے دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی ایکشن پلان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 20 نکاتی قومی ایکشن پلان کے بیشتر نکات ختم کر دیے جائیں گے۔

وفاق نے مجوزہ قومی ایکشن پلان کے نکات کے لیے صوبوں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔ پلان میں منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ اور جرائم میں سہولت کاری ترجیحی نکات ہوں گے۔

اصلاحات پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) میں مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جس کے بعد جلد منظوری دی جائے گی۔ وفاق نے چاروں صوبوں سے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان پر عمل کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

چاروں صوبے 10 جنوری 2019 تک قومی ایکشن پلان پر عمل کی رپورٹ جمع کروائیں گے۔ نیکٹا پورٹل کے لیے چاروں صوبوں سے فوکل پرسنز کے نام بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ 20 نکاتی قومی ایکشن پلان سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں سنہ 2015 میں مرتب کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس سینیٹ میں پیش کی جانے والی پلان پر عملدر آمد رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ لے دارالحکومت کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں 90 فیصد تک کمی آئی۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2 سال میں ملک بھر میں 9 کروڑ 83 لاکھ موبائل سمز بلاک کی گئیں جبکہ 414 دہشت گردوں کو سزائے موت دی گئی۔

پلان کے تحت صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے ایکشن میں 1865 دہشت گردوں کو ہلاک جبکہ 5 ہزار 6 سو 11 کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پلان شروع ہونے کے بعد سندھ میں 2 ہزار 3 سو 11، خیبر پختونخواہ میں 13، پنجاب میں 2 اور بلوچستان میں ایک مشکوک مدرسے کو بند کیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں