چوہدری نثار کا پچھلے10سال کی امریکی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ -
The news is by your side.

Advertisement

چوہدری نثار کا پچھلے10سال کی امریکی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ

اسلام آباد:سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پچھلے10سال کی امریکی امداد کے آڈٹ کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ، ہم نے کبھی اقتداراور کبھی ڈالرز کی خاطر ملک کو بیچا، ہمیں امریکا کی جانب سےامدادکےطعنوں کاجواب دینا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق چوہدری نثار کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اجلاس بلانے کی بات سے اتفاق کرتاہوں، مشترکہ اجلاس پہلے ہی بلا لیناچاہئےتھا، پارلیمنٹ صرف تقریروں کیلئے نہیں رہنمائی کیلئے ہوتی ہے، قومی اسمبلی اورسینیٹ میں حکومت کی رہنمائی کی جاتی ہے، یہ خوش آئند ہے کہ ہم یکجا اور ایک زبان ہیں، ہم یکجا اور ایک زبان ہیں حکومت کو اس سے فائدہ اٹھاناچاہئے۔

چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ پاکستان کواس نہج پرپہنچانےمیں ہمارابھی رول واضح ہے، دیوار کیا گری میرےخستہ مکان کی، لوگوں نے گھرمیں صحن بنالئے ، پاکستان نےبیرونی طاقتوں کوایسےراستےدیئےجیسےنہیں دیئےجاتے، ہم نے کبھی اقتداراور کبھی ڈالرز کی خاطر ملک کو بیچا، پاکستان کو کوئی نہیں ڈرا سکتا جب تک ہم موقع نہ دیں، یہی وجہ ہےآج ٹرمپ کےالزامات ہمیں سننےکومل رہےہیں۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ نوازشریف کے پچھلےدورہ امریکا میں ان کےساتھ موجود تھا، امریکی سینیٹرجان کیری نے ہمارے سامنے دہشتگردی کا رونا رویا تھا، کیری سے کہا تھا خطے میں بھارت ہے معلوم ہے وہاں کیا ہورہاہے، جان کیری کوبتایا تھا اقلیتوں کو زندہ جلایا جاتا ہے ، سینیٹر کیری نےآگےسےجواب دیا مجھےاس کاعلم نہیں۔

انکا کہنا تھا کہ خطےمیں کوئی پٹاخہ بھی چلتاہےتوکہتےہیں پاکستان نے دہشتگردی کی۔ ہم نے خود بیرونی طاقتوں کو ملک میں راستہ بنانے کا موقع دیا، یہ مسئلہ دردکی گولی سےنہیں حل ہوگا سرجری بھی کرناپڑےگی، نشانہ سب سے پہلے اصل مرض کو بنانا ہوگا۔

امریکا پر شدید تنقید کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کاذمہ دارپاکستان نہیں، امریکا پاکستان سے پوچھ کر نہیں ازخود افغانستان آیا، افغانستان میں جنگ سے متعلق امریکی پالیسیاں ناکام ہوئی ہیں، خود مذاکرات چاہتےہیں مگربات کریں تو کہتے ہیں گناہ کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کے بیان کے حوالے سے سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم پردہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کاالزام لگایا گیا ، حکومت اورایوان سےگزارش ہے مل بیٹھ کربیانیہ بنائیں، خطوط میں افغانستان کی سرحدپردہشت گردوں کی نشاندہی کی جائے، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کےالزام کاسدباب کرناچاہئے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ڈریں گے تو یہ فائدہ اٹھائیں گے، محاذآرائی سے گریزکرناچاہیے، ہمیں یہ مقابلہ سنجیدگی، دلیل اورحقائق سے لڑناچاہیے، امریکا سے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے شواہد طلب کیے جائیں، ہمیں امریکا کو جواب دینے کیلئے ایک مشترکہ بیانیہ دینا چاہیے۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈکی رقم پر امریکی کئی ماہ اور سال بیٹھے رہتےہیں، افغان جنگ کیلئےامریکا نے ہماری سڑکیں اورفضائی حدوداستعمال کی، امریکانےہماری سڑکیں تباہ کردیں،اب جواب دینےکاوقت ہے، ہم نے امریکا کے کولیشن سپورٹ فنڈزپرنظرثانی نہیں کی ، 20سال کاریکارڈ رکھ کرمشترکہ بیانیہ امریکا کے سامنے رکھنا چاہئے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ہم نے امریکا کے کولیشن سپورٹ فنڈز پر نظرثانی نہیں کی، امریکاہماری حدوداستعمال کرتاہے اور اوپر سے احسان جتاتا ہے، حکومت،پارلیمنٹ اورادارے یک زبان ہوکر لائحہ عمل تیار کریں، موجودہ صورتحال پراس ایوان سے سب کوپیغام جانا چاہیے، ہم محاذآرائی اورلڑائی نہیں چاہتے، یکطرفہ تعاون نہیں ہوسکتا۔

افغانستان کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان سےتعاون یکطرفہ اوردشمنوں کےایجنڈےپرنہیں ہوسکتا، پاکستان سے تعاون وقار اور مفاد کےبرعکس نہیں ہوسکتا، امریکی امداد اور دہشتگردوں کےنیٹ ورک کی نشاندہی ہونی چاہئے، پچھلے10سال کی امریکی امدادکاآڈٹ ہوناچاہیے۔

چوہدری نثارکی اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کےبیان کے بعد ایک کام تو اچھا کیا گیا، امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ کادورہ ملتوی کرایا گیا، امریکی ٹھیکیداروں کی ہیراپھیری پر کوئی پوچھنے والا نہیں، امریکا سے اپنے اوپر لگائے گئےالزامات پر بات کرنی چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا کی جانب سےامدادکےطعنوں کاجواب دیناہوگا، الزامات باربارلگائے جاتے ہیں اور پھر بھی جواب نہیں دیاجاتا، ملکی مفاد میں معاملات وزارت خارجہ میں طے ہونے چاہئیں، اس وقت پوری قوم پاکستان اورحکومت کے ساتھ کھڑی ہے، تاثردینا ہے پاکستان کی وجہ سے افغانستان کےحالات خراب نہیں، بھارت کو مسلط کرنا افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کی بڑی وجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری اسٹیٹ کو سیکریٹری خارجہ سے ملناچاہیے، امریکی حکام کو سیدھا جاکر وزیراعظم یا آرمی چیف سے نہیں ملنا چاہیے، واضح کرنا ہوگا افغانستان میں امن نہ ہونا ان کی حکومت کی ناکامی ہے، ایک ساتھ کھڑے ہونے سے ایوان،حکومت، اداروں کی عزت ہے، حکومت،اپوزیشن، ادارے مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل بنائیں، ایسالائحہ عمل بنایاجائے جس پر ایوان پہرہ دے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کےخلاف گھیراتنگ ہو رہا ہے، گھیراتنگ کرنے میں ایسے ممالک ہیں جو وہم وگمان سے باہرہیں، خطےکی صورتحال میں ایران اہم ہے ، جسے ہم نظرانداز کررہےہیں، چین ہمارا دوست ہے، روس کافی حد تک دوستوں میں شامل ہے، ایران پاکستان کا وقت پر ضرورت پڑنےوالا اہم دوست ہے ، وزیرخارجہ چین، روس ضرور جائیں اور ایران کابھی دورہ کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ الزامات پر سنجیدگی کیساتھ ایک گیم پلان تیارکریں، ہمیں مل کرپاکستان کےگردگھیراتنگ ہونےکاحل نکالنا ہوگا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں