The news is by your side.

Advertisement

چوہدری شوگر مل میں شریف خاندان کی کرپشن کی غضب کہانی منکشف

کراچی: چوہدری شوگر مل میں شریف خاندان کی عجب کرپشن کی غضب کہانی سامنے آ گئی، اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں تہلکہ خیز انکشافات سے پردہ اٹھا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے ثبوت ہیں کہ شریف خاندان کا بچنا مشکل ہے، ایک پیسا استعمال کیے بغیر شریف فیملی نے پوری شوگرمل لگا لی، کرپشن کے اس کھیل میں 310 ملین کا قرضہ حاصل کیا گیا۔

شریف خاندان کی کرپشن کی تہلکہ خیز دستاویز پروگرام پاور پلے میں پیش کی گئی، نیب کے مطابق ان کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ شریف خاندان کا بچنا مشکل ہے، دستاویز کے مطابق پورا سسٹم شریف فیملی کی کرپشن کو سپورٹ کرتا ہے، پہلے 310 ملین کا قرضہ حاصل کر کے مل لگائی گئی پھر رقم شیڈرون جرسی کو واپس کر دی گئی، کمپنی کو صرف 20 ملین ڈالر پاکستان لانے کے لیے نہیں بلکہ اس کمپنی کو کالا دھن سفید کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، کمیشن، کک بیکس کا پیسا جعلی کمپنی کے ذریعے ادھر ادھر کیا گیا جس کا براہ راست تعلق چوہدری شوگر ملز سے تھا، چوہدری شوگر ملز میں ٹی ٹیز کا بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

انکشاف کیا گیا کہ شیڈورن جرسی کا نام منی لانڈرنگ کی وجہ سے یو این کی ویب سائٹ پر تھا، نواز شریف نے اسی کمپنی کے ذریعے 20 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ کی، پروگرام پاور پلے میں 2016 میں کمپنی سے متعلق رپورٹ نشر کی گئی تھی، شیڈرون جرسی پر اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف وتھرا نے صفائی بھی پیش کی تھی، نیب ذرایع کا کہنا ہے کہ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 9 میں شیڈرون جرسی کا ذکر موجود ہے، جعلی کمپنیاں بنا کر اپنے خاندان کے لیے فوائد حاصل کیے گئے، پارلیمنٹ نے نواز شریف کے لیے 7 سوال بنائے تو ایک میں شیڈرون کا ذکر تھا، سوالات کی تعداد 7 سے 70 ہوئی تو بھی شیڈرون کا ذکر تھا۔

نیب کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ شریف برادران نے مرحوم عباس شریف کے بیٹے کو بھی دھوکا دیا، پاناما اسکینڈل پر شوگر مل یوسف عباس کے نام منتقل کر دی گئی، یوسف عباس مریم نواز معاملے پر ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکے، شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے لیے نت نئے طریقے اپنائے، پاکستانی اداروں نے منی لانڈرنگ کے وقت اپنی آنکھیں بند رکھیں۔

نیب ذرایع کے مطابق شیڈرون جرسی کمپنی 16 اکتوبر 1991 میں بنائی گئی، چوہدری شوگر مل 28.5 ملین ڈالر کی لاگت سے پاکستان میں لگائی گئی، شوگر مل کے لیے قرضے کے لیے آف شور کمپنی بنائی گئی، شوگر مل کے لیے 310 ملین کا قرضہ استعمال کیے بغیر واپس کیا گیا، یہ قرضہ سود میں تھا جس پر 10 فی صد اضافی سود ادا کرنا تھا، 1994 سے اس کی 10 قسطیں واپس کرنا تھیں، شیڈرون جرسی سے حاصل رقم سے اتفاق فاؤنڈری سے مشینیں لی گئیں، بینک اسٹیٹمنٹ کے مطابق یہ رقم مقامی طور پر ادا کی گئی، 15 ملین ڈالر کے ظاہر شدہ قرضے کو واپس کیا گیا، شریف خاندان نے بلا ضرورت ایل سی کھلوانے کی درخواست دی تھی حالاں کہ مشینری حاصل کرنے کے باوجود ایل سی کی منطق نہیں تھی، شوگر مل لگنے کے بعد قرضہ کس بات کا لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے نکتہ اٹھانے کی بہ جائے ایل سی اور قرضے کی اجازت دے دی، اسٹیٹ بینک شریف خاندان پر مہربان ہو کر قواعد کی خلاف ورزی کرتا رہا، 20 ملین ڈالر باہر منتقل کیے گئے، یہ کالا دھن تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں