The news is by your side.

Advertisement

کیا یہ عام دوا کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟

عالمی وبا کرونا سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے، ایسے میں برازیل میں ہونے والی تحقیق نے کووڈ کے باعث اسپتال میں زیرعلاج افراد کو اہم خوشخبری سنادی ہے۔

آن لائن طبی جریدے آر ایم ڈی اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جوڑوں کے درد کے لیے استعمال ہونے والی ایک سستی دوا نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں کے ہسپتال میں قیام کا دورانیہ اور اضافی آکسیجن کی ضرورت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اس دوا کا نام کولچیسین ہے، جس کا برازیل میں بین الاقوامی ماہرین کی موجودگی میں ٹرائل کیا گیا، ٹرائل کے نتائج رواں ہفتے جاری کیے گئے، تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس دوا سے کووڈ 19 کے مریضوں کا اسپتال میں قیام کا وقت مختصر اور موت کا خطرہ 20 فیصد سے زیادہ کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ دوا کووڈ 19 کے لیے منہ سے کھائی جانے والی پہلی دوا ثابت ہوسکتی ہے۔

Image result for Brazil Colchicineآن لائن طبی جریدے آر ایم ڈی اوپن میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دوا کسی بھی طرح کام کرتی ہو، مگر ایسا نظر آتا ہے کہ کولچیسین کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں مقیم مریضوں کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس دوا سے سنگین مضر اثرات جیسے دل یا جگر کو نقصان پہنچنا یا دیگر کا سامنا نہیں ہوتا، یہ وہ اثرات ہیں جن کا سامنا کووڈ مریضوں کو اس بیماری کے علاج کے لیے استعمال کرائی جانے والی دیگر ادویات کے نتیجے میں ہوتا ہے۔

تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس ٹرائل میں کم تعداد میں مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور وہ یہ تعین کرنے سے قاصر ہیں کہ یہ دوا آئی سی یو کی ضرورت یا موت کے خطرے کو کسی حد تک کم کرسکتی ہے؟

اس دوا کو جوڑوں کے امراض کے علاج اور ورم کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کا سامنا کووڈ کے کچھ مریضوں کو ہوتا ہے، اس مقصد کے لیے اپریل سے اگست دو ہزار بیس کے دوران 75 افراد کو ٹرائل کا حصہ بنایا گیا، جن میں کووڈ کی معتدل سے سنگین بیماری کی تشخیص ہوئی تھی، ان افراد کو مختلف مقدار میں اس دوا کو دیا گیا۔

ٹرائل کے نتائج 72 مریضوں پر مشتمل ہیں اور محققین نے دریافت کیا کہ اس دوا کو استعمال کرنے والے افراد کا آکسیجن تھراپی کا اوسط دورانیہ 4 دن تھا جبکہ عام طریقہ علاج والے افراد میں یہ وقت ساڑھے 6 دن تھا، اسی طرح یہ دوا استعمال کرنے والے افراد کے ہسپتال میں قیام کا اوسط دورانیہ 7 دن رہا جبکہ دیگر گروپس کو 9 دن تک وہاں رہنا پڑا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں