The news is by your side.

Advertisement

شہدائے کربلا کا چہلم آج عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

کراچی / لاہور / اسلام آباد / پشاور/ راولپنڈی: شہدائے کربلا کا چہلم ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے۔ جلوسوں اور مجالس کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چہلم ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

ملک کے مختلف شہروں میں چہلم کے جلوس برآمد ہوں گے اور مجالس منعقد ہوں گی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

لاہور میں چہلم حضرت امام حسینؓ کی سیکیورٹی کے حوالے سے 15 ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ زائرین کو چار سطحی سیکیورٹی حصار سے گزارا جائے گا۔

لاہور میں چہلم حضرت امام حسینؓ کے مرکزی جلوس پر 9 ایس پیز، 24 ڈی ایس پیز اور 74 ایس ایچ اوز سمیت 15 ہزار پولیس اہلکار فرائض سر انجام دیں گے۔

کراچی میں بھی چہلم حضرت امام حسینؓ کے موقع پر مجالس عزا منعقد ہوں گی۔ مرکزی مجلس نشتر پارک میں صبح 11 بجے منعقد ہوگی جس سے علامہ عباس کمیلی خطاب کریں گے۔

مرکزی جلوس دوپہر 1 بجے نشتر پارک سے بر آمد ہوگا۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ جلوس دوپہر ایک بجے نشتر پارک سے بوتراب اسکاؤٹس کی زیر قیادت بر آمد ہوگا۔ جلوس کے شرکا نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر ادا کریں گے۔

شہرقائد میں جلوس کی گزر گاہوں کو بم ڈسپوزل اسکواڈ سے چیکنگ کروائی جائے گی جبکہ اہم و بلند عمارتوں کے اوپر شارپ شوٹرز بھی تعینات رہیں گے۔

پولیس و رینجرز کی بھاری نفری جلوس کے ہمراہ موجود رہے گی جبکہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے بھی جلوس کی گزرگاہوں کو چیک کیا جائے گا۔ جلوس کے راستے میں آنے والی سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا گیا ہے۔

کراچی میں مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا حسینیاں ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔

پشاور میں بھی چہلم حضرت امام حسینؓ کی سیکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دفعہ 144 کے علاوہ اندرون شہر حساس علاقوں میں ناکہ بندی اور چیکنگ کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر ملک بھر کے اکثر شہروں میں موبائل فون سروس صبح 9 سے رات 9 بجے تک کے لیے بند کردی گئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں