The news is by your side.

مرغی ہزار روپے کلو اور انڈے پانچ سو روپے درجن، بحران سر پر آگیا

سویابین کی قلت کے سبب ملک بھر میں مرغی اور انڈوں کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، بندرگاہ پر کھڑے جہازوں کو کلیئر نہ کیا گیا تو مزید مسائل جنم لیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی غفلت کے باعث کراچی پورٹ پر موجود سویا بین اور کینولا ببیج سے لدے بحری جہاز کی کلئیرنس تاخیر کا شکار ہے جس کے باعث متعدد پولٹری فارموں سمیت دیگر صنعتیں متاثر ہورہی ہیں، جس کی وجہ سے مرغی ایک ہزار روپے کلو گرام اور انڈے پانچ
سو روپے فی درجن تک ہوجائیں گے۔

 اس حوالے سے پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور پاکستان سولوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے تحت پریس کلب پر مظاہرہ کیا گیا۔ چیئرمین آل پاکستان سولوینٹ ایکسٹریکٹرز میاں محمد احمد نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سویا بین کے4مال بردار جہاز پاکستان کی بندگاہ پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان جہازوں میں سے 2جہاز سویابین اتار کر واپس جاچکے ہیں لیکن متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کلیئرنس نہیں دی گئی۔ میاں محمد احمد کا کہنا تھا کہ سویابین سے لدے2جہاز پورٹ قاسم آوٹر چینل پر کھڑے ہیں، سویابین کے مزید5جہاز سمندر میں ہیں جو جلد پاکستان پہنچ جائیں گے۔

سولونٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین نے کہا کہ ساڑھے 4کروڑ ڈالر کے درآمدی کنسائمنٹ پورٹ پر موجود ہیں، معاملہ حل نہیں ہوا تو تو6 کروڑ میٹرک ٹن سویابین بیج کی درآمد متاثر ہونے کے ساتھ مرغی کا گوشت اور انڈے ناپید ہوجائیں گے۔

چئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن چوہدری محمد اشرف نے کہا مسلہ حل نہیں ہوا توانڈے اور مرغیاں بھی امپورٹ کرنی پڑیں گی۔پولٹری فارمر سلیم بلوچ بولے سویا بین نہیں ملے گا تو فارمنگ ممکن نہیں رہے گی۔

مرغی کی فیڈ کے لئے سویا بین اور مکئی نہیں ہے، پولٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کو خطوط بھی لکھے ہیں، حکومت سویابین اور کنولہ میل کی کرشنگ سے متعلق نوٹیفیکشن جاری کرے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس وقت سویا بین کی شد ید قلت ہے جو کہ پولٹری فیڈ کا بنیادی پروٹین جزو ہے، اس وقت ملک میں پولٹری فیڈ ملوں کے پاس سویا بین کا اسٹاک تقریباً صفر ہوچکا ہے۔

کراچی کی پورٹ قاسم بندرگاہ پر کھڑے سویابین سے لدے بحری جہازوں کو فوری طور پر کلیئر نہیں کیا جاتا تو آنے والے دنوں میں عوام کو مرغی اور انڈے کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر حکومت نے سویابین کے بحری جہاز جلد ریلیز نہ کیے تو پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کا کام ٹھپ اور عوام پروٹین کے سستے ترین ذرائع سے بھی محروم ہو جائیں گے جو انہیں چکن اور انڈوں کی شکل میں دستیاب ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں