The news is by your side.

Advertisement

بچوں کوعلاج کے نام پرملالہ کی طرح بیرون ملک نہیں بھجوائیں گے، جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد : چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پیچیدہ امراض میں مبتلا بچوں کو ملالہ یوسف زئی کی طرح علاج کیلئے بیرون ملک نہیں بھجوائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیمی لیئل ہائیپر کولیسٹرو لیمیا نامی بیماری میں مبتلا بچوں پر ازخود نوٹس کیس پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بچوں کو علاج کے نام پر ملالہ یوسف زئی کی طرح بیرون ملک نہیں بھجوائیں گے، سماعت میں عدالتی حکم پر کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایاز پیش ہوئے اور اپنی رپورٹ پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے بیرون ملک سے مشین منگوانے پر شکرگزار ہیں، تین ہفتے میں مشین پاکستان پہنچ جائے گی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا کریڈٹ وزیر صحت کو بھی جاتا ہے جن کی کاوش سے اتنی جلدی مشین آرہی ہے۔

اس موقع پر مرض میں مبتلا سحرش نے کہا کہ وہ اور اس کا بھائی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا پاکستان میں علاج ممکن نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں بہن بھائی کا علاج پاکستان میں ہی ہو گا اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہونے دوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب علاج کے نام پر بچوں کو ملالہ کی طرح بیرون ملک نہیں بھجوائیں گے، عدالت نے ڈریپ کو بیماری کی دوائی کولیسٹرامن رجسٹرڈ کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے مشین کی تنصیب، دوائی کی رجسٹریشن اور دیگر اقدامات کے حوالے سے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں