The news is by your side.

Advertisement

فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے کوشاں ہوں: چیف جسٹس

مقدمات کی بھرمار پر تشویش ہے، انصاف کی فوری فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ انصاف میں تاخیر اور مقدمات کی بھرمار پر تشویش ہے، بطور چیف جسٹس فوری اور سستے انصاف کی کوششیں کررہا ہوں، انصاف کی فوری فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کانفرنس کا مقصد عدالتی اصلاحات پر تبادلہ خیال ہے، فوری اور سستے انصاف کے لیے عدالتی اصلاحات میری ترجیح ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مساوی حقوق کی بنیاد پر ہی کسی معاشرے کی ترقی کی راہ کا تعین ہوتا ہے، یکساں انصاف کے بغیر عام آدمی تک معاشی فائدے نہیں پہنچ پاتے ہیں، قوم کی خوشحالی میں انصاف کی فراہمی کا اہم کردار ہے۔

مزید پڑھیں: آئندہ ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کے بعد مجھے تنخواہ دی جائے، چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان، چین میں سماجی و اقتصادی رابطے کا ذریعہ ہے، سی پیک سے ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی، بحیثیت قوم سی پیک کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری کا زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ طوفان آنے پر کچھ لوگ دیوار اور کچھ پن چکیاں بناتے ہیں، تیز ہوا چلے تو ہمیں بھی پن چکی بنانے والوں میں ہونا چاہئے جبکہ معاشرے کا کریمنل جسٹس سسٹم معاشی ترقی کی کنجی ہوتا ہے، منی لانڈرنگ سائبر کرائم مقدمات کے حل کے لیے جدید عدالتی نظام ناگزیر ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں