The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس نے 3لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کو کل طلب کرلیا

لاہور: پنجاب کی کمپنیز پر لیے گئے از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کو کل طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پنجاب کی کمپنیز پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی، ڈی جی نیب لاہور اور چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ 346 سول سرونٹ افسران جو کمپنیز میں گئے، انکی فہرست نیب کو دے دی ہے۔

عدالت نے پبلک سیکٹر سے کمپنیز میں جانے والے تمام افسران کو بھی نوٹس جاری کر دیئے اور حکم دیا کہ کل تمام افسران سپریم کورٹ پیش ہوں، اگر کوئی اپنا موقف دینا چاہتا ہے تو کل تک دے دے۔

چیف جسٹس نے پبلک سیکٹر سے کمپنیز میں جانے والے تمام سی ای اوز کی لسٹ آج ہی سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے پیچیدہ پرفارما بنانے پر ڈی جی نیب لاہور پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈی جی صاحب آپ معاملے کو پیچیدہ کیوں کر رہے ہیں؟

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم افسران کو دیئے جانے والے سارے پیسے واپس لیں گے اور ڈیم فنڈ کے لیے جمع کرائیں گے، یہ عوام کے پیسے ہیں، بندر بانٹ کی اجازت نہیں دے سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیپٹن عثمان پنجاب حکومت سے ایک لاکھ چالیس ہزار لے رہا تھا، کمپنی میں جا کر 14 لاکھ لے رہا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے دوائیاں نہیں ہیں اور افسران عیاشیاں کر رہے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کو کل طلب کرلیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں