site
stats
اہم ترین

چیف آف آرمی اسٹاف کو صدر کے ماتحت لائیں گے،ترک صدر

انقرہ : ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ایسے تمام افراد کے خلاف عائد مقدمات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر صدر کی توہین کرنے کا الزام ہے،انہوں نے کہا کہ فوفی سربراہ صدر کے ماتحت کام کرے گا۔

حالیہ دنوں کے دوران ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد عوامی اتحاد سے متاثر ترک صدر نے جمعہ کو صدارتی محل سے جاری ایک بیان میں توہین صدر کے مرتکب افراد پر دائر مقدمات ختم کرنے کی نوید سنا دی ہے جب کہ باغیوں کی ناکامی کے بعد ترک میں جاری ہنگامی اقدامات پرتنقید کرنے والی عالمی میڈیا سمیت دیگر ممالک کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ تمام فوجی سربراہوں کو وزارت دفاع کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا اور وزیر دفاع تمام دفاعی امور کے کپتان ہوں گے اس کے علاوہ خفیہ ایجینسی کے سربراہ اور چیف آف آرمی اسٹاف کو صدر کے ماتحت لائیں گے جس کے لیے آئین میں درکار ترامیم کی جائیں گی ان فیصلوں کو اتوار کو سرگاری گزٹ میں شامل کیا جائے گا۔

اس سے قبل ترکی کے صدر نے امریکی جنرل جوزف ووٹل جو کہ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ترکی میں بغاوت کے منصوبہ سازوں کے حامی تھے۔

جب کہ امریکی جنرل جوزف وٹل نے ترک صدر کے بیان کے بعد ان کی جانب سے خود پر عائد کیے جانے والے الزام کو مسترد کر تے ہوئے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں فوجی رہنماؤں کی گرفتاری ترکی اور امریکہ کے فوجی تعلقات کو خراب کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے جمعرات کو فوج میں تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا اور 1700 فوجی اہلکاروں کو برطرف کر دیا تھا اور اب تک 40 فیصد جنرلز اپنے عہدوں سے برطرف ہو چکے ہیں۔

پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے 66000 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا چکا ہے اور 50 ہزار کے پاسپورٹ کینسل کیے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک کے 142 میڈیا اداروں کو بند کیا جا چکا ہے اور متعدد صحافی بھی زیرِ حراست ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top